.

فرانسیسی صدر کا عالمی قیادتوں سے ٹیلیفونک رابطہ، شام میں فرانس کی ترجیحات بارے آگاہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے علاقے الغوطہ الشرقیہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے فرانس کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ جمعے سے پیر کے درمیان ہونے والے رابطوں میں صرف وزارت خارجہ سرگرم نہیں رہی بلکہ فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے بھی ذاتی طور پر عالمی قیادت سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے شام میں فرانس کی پانچ ترجیحات کے بارے میں آگاہ کیا۔

فرانسیسی صدارتی ذریعے کے مطابق ماکروں نے اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، ایرانی صدر حسن روحانی ، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور روس کے صدر ولادیمر پوتین سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ ماکروں نے ہفتے کے اختتام کے دوران اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوترش سے بھی ٹیلیفون پر تین مرتبہ بات چیت کی۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے شام میں اولین ترجیحات شمار کیے جانے والے 5 امور یہ ہیں :

1۔ شام کی حکومت سلامتی کونسل کی قرار داد 2401 پر واضح طور سے اپنی آمادگی کا اعلان کرے۔ شام میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اس قرار داد پر روس پہلے ہی آمادگی کا اظہار کر چکا ہے۔

2۔ انسانی بنیادں پر فائر بندی کا استحکام جس سے کسی سیاسی حل کی راہ ہموارہو سکے۔

3۔ فوری طور پر ایسی محفوظ گزر گاہوں کا کھولانا جانا جن کے ذریعے انسانی امداد کے قافلے پہنچ سکیں۔

4۔ زخمیوں بالخصوص تشویش ناک حالت رکھنے والے افراد کا انخلاء جن کی تعداد کا اندازہ ایک ہزار کے قریب لگایا گیا ہے۔

5۔ فائر بندی کی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت ایک طریقہ کار وضع کرنا اس لیے کہ قرار داد 2401 کی منظوری سے زیادہ اہم اس پر عمل درامد ہے۔

روسی جنگ بندی ناکام ہو گئی

فرانسیسی صدارتی ذریعے کے مطابق روس کی جانب سے الغوطہ میں روزانہ پانچ گھنٹوں کی مجوّزہ جنگ بندی "زخمیوں کے انخلاء اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے ناکافی تھی۔ بالخصوص جب کہ لڑائی کئی صورتوں میں جاری ہے"۔ ذریعے نے واضح کیا کہ بیان کردہ ترجیحات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے فرانس کے ارادے میں کوئی تبدیل واقع ہو گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو اولین ترجیح رہے گی۔

ایلیزے پیلس کے مذکورہ ذریعے کے مطابق شامی حکومت کی چال میں نہیں آنا چاہیے جس کا کہنا ہے کہ الغوطہ میں موجود تمام مسلح گروپ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس غلط بیانی کا مقصد تمام لوگوں پر بم باری کا جواز پیش کرنا ہے۔ شامی حکومت بارہا یہ بات دُہرا چکی ہے کہ انسداد دہشت گردی کا مطلب اس کے تمام مخاصمین کا انسداد ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ایک سوال کے جواب میں زریعے کا کہنا تھا کہ "الغوطہ میں تنازع کے دونوں فریقوں کی جانب سے لڑائی جاری ہے تاہم امداد پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بننے والا فریق شامی حکومت ہے"۔

آستانہ بات چیت کا فارمولا معطّل ہے

دوسری جانب فرانسیسی عہدے دار کے مطابق روس ، ایران اور ترکی کی سرپرستی میں آستانہ بات چیت کا فارمولا تعطّل کا شکار ہے اور اس وقت اس فارمولے پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ سیف زونز کامیاب نہیں ہو سکے۔ عہدے دار نے بتایا کہ شامی حکومت نے آئینی کمیٹی کا خیال بھی مسترد کر دیا جس کی تشکیل سُوشی کانفرنس میں سامنے آنے والا نمایاں ترین فیصلہ تھا۔

فرانسیسی ذریعے نے زور دیا کہ بشار الاسد کی اس بات کو یقین نہیں کرنا چاہیے کہ وہ فتح یاب ہو گیا ہے۔ اس لیے کہ مختلف اراضی پر کنٹرول حاصل کرنا اس وقت مستقل بنیادوں پر نہیں ہے۔

ماکروں کا لبنان اور ایران کا دورہ

فرانسیسی صدر کے ایران کے دورے کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سوال کا جواب دیتےہوئے ایلیزے پیلس کے ذریعے کا کہنا تھا کہ "امانوئل ماکروں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کا دورہ کریں گے تاہم ابھی تک اس کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ ان کے سامنے یہ تاریخ طے کرنے کے لیے صدارت کے کئی برس باقی ہیں"۔ ذریعے کا اشارہ اس جانب تھا کہ یہ دورہ عنقریب نہیں ہو گا۔

ماکروں کے لبنان کے دورے کے حوالے سے ذریعے نے بتایا کہ یہ دورہ فرانسیسی صدر کے ٹائم ٹیبل کے ساتھ مربوط وجوہات کی بنا پر ملتوی کیا گیا ہے۔ یہ دورہ لبنان میں دو ماہ بعد مقررہ پارلیمانی انتخابات کے بعد ہو گا۔