.

حمد بن خلیفہ نے میرے والد کو زہر دیا تھا: شیخ سلطان بن سحیم

قطر کے سابق وزیر خارجہ اور وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کا انجام بہتر بُرا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے حکمراں خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ سلطان بن سحیم نے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کو اپنے والد کی موت کا ذمے دار قراردیا ہے اور ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے ان کے والد کو زہر دیا تھا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

انھوں نے العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ترکی الدخیل سے ایک خصوصی انٹرویو میں قطر کے سابق امیر پر یہ سنگین الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ غداری اور سازش کے ذریعے ہم سے شیخ سحیم کو چھین لیا گیا ۔ہم یہ بات دستاویزات اور شواہد سے ثابت کرسکتے ہیں‘‘۔

ان سے یہ پوچھا گیا تھا کہ وہ 1985ء میں کس کو اپنے والد کے قتل کی سازش کا ذمے دار قرار دیتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’’ میں براہ راست شیخ حمد بن خلیفہ کو اس کا ذمے دار قرار دیتا ہوں اور ان ہی پر اس کا الزام عاید کرتا ہوں‘‘۔

شیخ سحیم بن حمد بن عبداللہ آل ثانی قطر کے حکمراں خاندان کے رکن تھے اور وہ اس خلیجی ریاست کے پہلے وزیر خارجہ رہے تھے۔ان کے بھائی خلیفہ بن حمد آل ثانی تب امیر قطر تھے۔

شیخ سحیم کے بیٹے سلطان اب قطر کے موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد کی قیادت میں حکمراں خاندان کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کے مؤقف کی بھی حمایت کی تھی ۔

انھوں نے العربیہ سے اس خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ’’ قطر پر تمام آل ثانی خاندان کی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص گروہ کی حکمرانی ہے۔یہ مخصوص لوگوں پر مشتمل رجیم ( نظام ) ہے۔ان میں حمد بن خلیفہ ، تمیم بن حمد اور حمد بن جاسم بن جابر شامل ہیں اور یہ سب سے بڑے مجرم ہیں‘‘۔

قطر کے سابق وزیرخارجہ اور وزیراعظم حمد بن جاسم کو اس ننھے ملک کی خارجہ پالیسی کا خالق اور اصل فیصل ساز قرار دیا جاتا ہے ۔قطر ان کی وضع کردہ خارجہ پالیسی ہی پر دوعشرے سے زیادہ عرصے تک عمل پیرا رہا ہے اور اسی کے نتیجے میں اس کا خلیجی عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تنازع پیدا ہوگیا تھا اور اب گذشتہ نو ماہ سے ان کے درمیان سفارتی ، سیاسی اور تجارتی تعلقات منقطع ہیں۔

شیخ سلطان نے کہا کہ ان کا حمد بن جاسم کے لیے براہ راست ایک پیغام ہے:’’ ان کا بہت سخت اور ناقابل تصور حساب ہوگا‘‘۔انھوں نے شیخ حمد کو یہ بھی باور کرایا ہے کہ انھوں نے ماضی میں مرحوم شیخ زاید کے سامنے کیا کہا تھا اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم شیخ خلیفہ کی واپسی کی درخواست پر ان کا کیا ردعمل تھا ۔ ‘‘۔

انھوں نے بتایا:’’انھوں نے تب کہا تھا کہ وہ ان کو لے جائیں گے اور طیارے کے باتھ روم میں بند کرکے اس کو تالا لگا دیں گے‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’’ میں سلطان بن سحیم انھیں آج یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم شیخ خلیفہ کے وفادار تھے۔میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان صاحب ( حمد بن جاسم) کا انجام بہت بُرا ہوگا۔انھوں نے تو باتھ روم میں بند کرنے کی بات کی تھی لیکن ہمارےنزدیک اس باتھ روم کی ان سے زیادہ عزت ہے اور ہم انھیں اس کے اندر بند نہیں کریں گے‘‘۔

آزاد قطر میں واپس جاؤں گا

شیخ سلطان عرب ممالک اور قطر کے درمیان جاری سفارتی بحران کے خاتمے پر زوردے چکے ہیں ۔ انھوں نے گذشتہ دسمبر میں حکمراں خاندان کی مخالفت کرنے والے آل ثانی قبیلے کے سرکردہ ارکان کا ایک اجتماع بھی منعقد کیا تھا ۔ان کے بہ قول قطر کے اندر اور بیرون ملک مقیم آل ثانی قبیلے کے 60 فی صد سے زیادہ ارکان حکمراں خاندان اور اس کی حکومت کے مخالف ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں قطر کی ریاستی سکیورٹی کے دسیوں اہلکاروں نے دوحہ میں شیخ سلطان کی قیام گاہ پر غیر قانونی طور پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں سے 137 تھیلے اور لوہے کے صندوق اٹھا لے گئے تھے۔ان میں ان کے والد شیخ سحیم کی دستاویزات اور دوسری قیمتی اشیاء پڑی ہوئی تھیں۔

شیخ سلطان جون 2017ء میں قطر اور چار عرب ممالک سعودی عرب ، بحرین ، مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی بحران کے آغاز کے بعد دوحہ سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔اس حقیقت کے باوجود قطر کے ملکیتی میڈیا ذرائع ایسی خبریں دیتے رہے ہیں کہ شیخ سلطان ایک طویل عرصے سے تارک وطن ہوچکے ہیں لیکن انھوں نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں اس سفارتی بحران کے آغاز کے بعد تین ہفتے تک قطر ہی میں تھا اور پھر وہاں سے آگیا تھا۔ میں نے اپنی تمام زندگی قطر میں گزاری ہے۔میں وہیں پیدا ہوا ،بچپن ، لڑکپن اور جوانی گزاری ۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔اب میں قطر تب ہی لوٹوں گا جب اس کو اس سفاک قابض رجیم سے آزاد کرا لیا جائے گا‘‘۔

سلطان بن سحیم  العربیہ کے جنرل مینجر  ترکی الدخیل سے  گفتگو  کرتے  ہوئے۔
سلطان بن سحیم العربیہ کے جنرل مینجر ترکی الدخیل سے گفتگو کرتے ہوئے۔