امریکا کی لبنان میں پالیسی تبدیل، ایران کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے معاملے میں امریکا نے ماضی میں لچک دار پالیسی اپنائی ہے مگر حالیہ عرصے میں امریکی حکام کا لبنان کے حوالے سے لب ولہجہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکام نے مشرق وسطی میں ایرانی مداخلت کے حوالے سے اپنی زبان اور لہجہ تبدیل کر لیا ہے۔ امریکا اب مشرق وسطیٰ میں ایرانی توسیع پسندی کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ ایرانی توسیع پسندانہ عزائم کو شکست فاش دی جائے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل نے کانگریس کے اجلاس خطب میں کہا کہ لبنان کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب گاڑی کا پہیہ تیزی کے ساتھ پیچھے کی طرف گھومے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے لبنان کے حوالے سے پرانی پالیسی ترک کر دی ہے۔

امریکی حکومت کی طرف سے لبنان اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے اثر رسوخ کے حوالے سے ایک نئی پالیسی اختیار کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکیوں کے تبدیل ہوتے طرز عمل پرروشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اب ایران کو لبنانی حزب اللہ کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ امریکا لبنانی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں بعض معمولی نوعیت کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ توقع ہے کہ ان اقدامات کے جلد مثبت اثرات اور نتائج سامنے آئیں گے۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کی قرابت داری کو تبدیل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ حزب اللہ اور اس کے مقربین کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ امریکا اور اس کے اتحادی حزب اللہ کو خطے کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ اس وقت امریکا لبنانی عوام کو حزب اللہ کی حمایت پر مطعون نہیں کرے گا بلکہ حزب اللہ سے علاقائی مسئلے کے طورپر نمٹے گا۔

امریکی کانگریس نے لبنانی حکومت پر مزید پابندیوں سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لبنان کے معاملے کو حل کرنے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ لبنان پر مزید پابندیوں کا کوڑا استعمال کرنے کے بجائے پہلے سے عاید کردہ پابندیوں کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دے ہی ہے۔ موجودہ حکومت حزب اللہ کے مالی سوتوں کو خشک کرنے اور اس کے علاقائی اور عالمی مالیاتی نیٹ ورک پر ضرب لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جہاں تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا تعلق ہے تو امریکا کی پہلی ترجیح دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے ماحول کو ٹالنا ہے۔ امریکا کی پہلی کوشش یہ ہے کہ اسرائیل لبنانی حکومت کے خلاف دباؤ کے بجائے حزب اللہ کے میزائلوں اور اسلحہ کے حصول کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ اگرحزب اللہ کے راکٹوں اور میزائلوں کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں ایک بڑا مسئل حل ہو سکتا ہے۔

امریکا کی پہلی کوشش یہ ہے کہ وہ اسرائیل کو یہ ذہن نشین کرائے کہ حزب اللہ سے زیادہ اس کی توجہ ایران پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اگر اسرائیل ایران کوخطے میں مداخلت سے روک سکتا ہے کہ تو اس سے حزب اللہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں