ایرانی عہدے دار نے فرانسیسی وزیر خارجہ کا استقبال فوجی وردی میں کیوں کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے رواں ہفتے کے آغاز پر تہران کا دورہ کیا تھا۔ ان کے دورے کا مقصد تہران کو اس کے میزائل تجربات پر اصرار، خطے میں ملیشیاؤں کی سپورٹ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نتائج سے خبردار کرنا تھا۔

تاہم اس انتباہ پر کان دھرنے کے بجائے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے پروٹوکول کے بر خلاف فوجی وردی میں فرانسیسی وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے مقرب فارسی زبان کے اخبار "خط حزب اللہ" نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ایرانی عہدے دار کا وردی میں ملاقات کرنا فرانس کے لیے ایک پیغام ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق جنرل علی شمخانی ایرانی بحریہ کے سابق کمانڈر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ کا استقبال فوجی وردی میں کیا جب کہ دیگر ممالک کے مہمانوں سے ملاقات کے موقع پر وہ شہری لباس میں ہوتی ہیں۔

ایرانی اخبار "خط حزب اللہ" کے مطابق "یورپ 1" چینل کے نمائندے نے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باکسنگ کا ایک میچ لگ رہی تھی۔ اخبار نے نمائندے کے حوالے سے مزید بتایا کہ "فرانسیسی وزیر خارجہ اپنے تہران کے دورے میں ایرانی میزائل پروگرام کے حوالے سے یورپ کی توقعات کے مقابل ایرانیوں کا عام موقف دیکھنا چاہتے تھے تاہم اس نوعیت کے اقدامات (شمخانی کا وردی میں ملاقات کرنا) نے فرانسیسی وزیر کو بند دروازے کے سامنے پہنچا دیا"۔

جان ایف لودریاں نے ایرانیوں کو آگاہ کیا کہ حالات انتہائی خطرناک ہیں۔ البتہ ایسا لگ رہا ہے کہ ایرانیوں نے پیرس کی نصیحت پر کان دھرنے کی زحمت نہیں کی۔ فرانس کو اُس نقصان کا اندازہ ہے جو امریکی انتظامیہ کی جانب سے طہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے یورپ پر دباؤ کی صورت میں ایران کو درپیش ہو سکتا ہے۔ یقینا تہران کے لیے فرانس کی نصیحت پیرس کے اقتصادی مفادات کے ضمن میں ہے کیوں کہ فرانس ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے پیر کے روز تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایران کے سیاسی اور سکیورٹی عہدے داران سے ملاقات کی۔ اپنے دورے سے قبل لودریاں یہ دھمکی دے چکے تھے کہ اختلافی امور کے حوالے سے کسی حل تک نہ پہنچنے کی صورت میں ایران کو بائیکاٹ کے ایک نئے دور کے خطرے کا سامنا ہو گا۔

فرانس کے بین الاقوامی ریڈیو نے جان ایف لودریاں کے حالیہ دورے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کشیدگی اور تناؤ سے بھرپور حالات میں کیا گیا۔ ریڈیو کے مطابق علی شمخانی کا فوجی وردی کا سہارا لینا واشنگٹن کے اُس دباؤ کی شدّت کو باور کراتا ہے جو وہ تہران کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے محاذ میں شریک ہونے کے لیے یورپ پر ڈال رہا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ فرانسیسی وزیر خارجہ کے تہران آنے کا مقصد اُن تین یورپی مطالبات کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا جو حال ہی میں جرمن وزیر خارجہ نے پیش کیے۔

یہ مطالبات درجِ ذیل ہیں :

میزائل تجربات کو روک دینا.
خطّے میں سیاسی اور فوجی مداخلت روک دینا.
ایران میں انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانا.

جرمن وزیر خارجہ نے مذکورہ مطالبات کو ایک پیکج قرار دیا تھا جس کا ایران کو جوہری معاہدے کی پاسداری کے ضمن میں خیال رکھنا چاہیے اور اس پیکج پر کاربند نہ ہونے کا نتیجہ جوہری معاہدے میں ناکامی کی صورت میں برآمد ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں