حلایب کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات یا ثالثی فیصلہ ہو: مصر میں سوڈانی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قاہرہ میں سوڈان کے سفیر ڈاکٹر عبدالمحمود عبدالحلیم نے باور کرایا ہے کہ سوڈان اور مصر کے درمیان معلّق مسائل کے حل کے لیے اور متبادل احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات استوار کرنے کے واسطے آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے حکام حرکت میں آئیں گے۔

قاہرہ میں مصری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوڈانی سفیر کا کہنا تھا کہ دو ماہ بعد ان کی خرطوم سے واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے بیچ معلّق مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادیس ابابا میں سوڈان اور مصر کے صدور کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔ اس ملاقات نے شفافیت ، احترام اور مشترکہ مفادات کی سپورٹ پر مبنی دو طرفہ تعلقات کے لیے بنیادوں کو واضح کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان پر مشتمل ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو فوری طور پر حرکت میں آئے گی۔ اس کے علاوہ جانبین کے سیاسی ، سفارتی اور سکیورٹی تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک منصوبہ بھی وضع کیا گیا ہے۔

سوڈانی سفیر نے بتایا کہ ان کے ملک نے مثلّث "حلایب" کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مذاکرات یا فیصلہ کروانے کی پیش کش کی ہے۔

مثلث حلایب بحیرہ احمر کے افریقی ساحل پر سوڈان اور مصر کی سرحد پر واقع متنازع علاقہ ہے۔

سوڈانی سفیر نے سرحد کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بار پھر مشترکہ عسکری فورس بنانے کی تجویز دُہرائی ہے۔ یہ تجویز اُسی طرح کی فورس کی ہے جو سوڈان اور چاڈ کے درمیان بنائی گئی۔

ڈاکٹر عبدالمحمود عبدالحلیم کے مطابق آئندہ چند دنوں میں طے پانے والے معاہدے کے تحت مصر اور سوڈان کے صدور کی سربراہی میں مشترکہ سپریم کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں رسوخ پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں