آپ نے شمعون پیریز کو گلاب پیش کیے تھے؟ سعودی مشیر کا سابق قطری وزیراعظم سے سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قطر کے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ حمد بن جاسم آل ثانی کی جانب سے دو روز قبل ٹویٹر اکاؤنٹ کو پھر سے فعّال کیے جانے کے بعد انہوں نے الزامات اور حقیقت کے برخلاف خبریں ٹوئیٹ کرنا شروع کر دی ہیں۔

سعودی شاہی دفتر کے مشیر سعود القحطانی نے جمعے کے روز حمد بن جاسم کو اُن کی نصیحتوں کا جواب دیا جن میں قطر کے اس سابق عہدے دار نے عربوں پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق سے کسی طور دست بردار نہ ہوں۔ حمد بن جاسم نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعوی کیا کہ انہوں نے عرب قیادت کو یہ نصیحت کی ہے کہ وہ بیت المقدس میں اسلامی حقوق بالخصوص فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے ہر گز کوئی رعایت پیش نہ کریں۔

القحطانی نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "آپ عربوں کو یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ وہ بیت المقدس شہر کے حوالے سے حقوق سے دست بردار نہ ہوں ! کیا آپ نے سب سے پہلے عرب امن منصوبے کی پُشت میں خنجر نہیں گھونپا تھا؟ کیا آپ نے سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم نہیں کیے تھے اور قطر میں اسرائیلی پرچم لہرایا تھا؟ آپ ہی وہ کاٹھ کے گھوڑے تھے جس نے امن عمل کو سبوتاژ کیا.. کیا آپ وہ نہیں جس نے قطر کی لڑکیوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ شمعون پیریز کو گلاب کے پھول پیش کریں؟ شرم کی بات ہے !".

القحطانی نے حمد بن جاسم کے دعوؤں کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ "آپ نے ایک آڈیو ٹیپ میں جس کے صحیح ہونے کا آپ اعتراف بھی کر چکے ہیں معمّر قذافی سے کہا تھا کہ دوحہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں۔ کیا آپ کے حالیہ تعلقات جو اسکول کلبوں کی سطح تک پہنچ چکے ہیں کیا یہ فلسطینی مفاد میں ہیں ؟ ماضی میں بڑے اس وجہ سے آپ کے جھوٹ پر خاموش رہے کیوں کہ وہ آپ کے ساتھ 'ایک نوجوان سیاست داں' کا معاملہ کرتے تھے۔ تاہم اب ہم ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ 'اگر بوڑھا سٹھیا جائے تو پھر اس کے بعد کسی خواب کے پورا ہونے کی گنجائش نہیں ہوتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں