امریکا کے صدارتی انتخاب میں مداخلت پر ’’ بے پروا‘‘ نہیں ہوسکتا تھا : صدر پوتین

امریکا نے اپنے الزامات کے ثبوت میں کاغذ کا کوئی ایک ٹکڑا تک دیا ہے اور نہ باضابطہ درخواست کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ اگر ان کے ہم وطن شہری امریکا میں 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنا چاہتے تھے تو اس پر وہ خود بے پروا نہیں ہوسکتے تھے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اس طرح کی کوششوں کو کریملن سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

انھوں نے امریکا کے این بی سی ٹیلی ویژن سے جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا :’’ آپ نے یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ مجھ سمیت روسی حکام نے کسی شخص کو اس کی اجازت دی ہوگی ‘‘۔

امریکا کے ایک خصوصی وکیل رابرٹ میولر اب گذشتہ صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں روس کی مبینہ مداخلت کی جامع اور وسیع البنیاد تحقیقات کررہے ہیں۔گذشتہ ماہ میولر نے 13 روسی شہریوں اور تین روسی کمپنیوں پر ٹرمپ کی صدارتی مہم کی حمایت اور ڈیمو کریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کی مہم کو سبوثاژ کرنے پر فرد الزام عاید کی تھی۔

صدر ولادی میر پوتین نے انٹرویو کے دوران میں اس حوالے سے کہا:’’ اگر وہ روسی ہیں تو کیا ہوا ؟ ملک میں 14 کروڑ 60 لاکھ روسی آباد ہیں ۔میں کوئی بے پروا شخص نہیں ہوں ۔ امریکا میں ماخوذ کیے گئے افراد روسی ریاست کے مفادات کے نمائندہ نہیں ہیں‘‘۔انھوں نے سوال کیا :’’ کیا ہم نے امریکا پر پابندیوں کا نفاذ کیا ہے؟ نہیں، بلکہ امریکا نے ہم پر پابندیاں عاید کی ہیں‘‘۔

مسٹر میولر نے روسیوں کے خلاف 37 صفحات کو محیط فرد الزام جاری کی تھی لیکن صدر پوتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان روسیوں کے خلاف صدارتی انتخابات میں مداخلت پر کسی امریکی قانون کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم کسی کے خلاف اس وقت تک ہی مقدمہ چلاتے ہیں جب وہ کسی روسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہو۔کم سے کم ہمیں کاغذ کا کوئی ٹکڑا ہی دے دیں ۔ہمیں کوئی دستاویز دیں ، سرکاری طور پر کوئی درخواست بھیجیں اور پھر ہم اس کا جائزہ لیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ امریکا کی سرکردہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گذشتہ سال اپنی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ صدر پوتین نے بہ ذات خود امریکا کے صدارتی انتخابات میں اثر انداز ہونے ، ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے اور ٹرمپ کی جیت کے امکان میں اضافے کے لیے ایک وسیع تر انٹیلی جنس کارروائی کی ہدایت کی تھی۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنے انتخاب کے بعد سے ایک سے زیادہ مرتبہ ماسکو کے ساتھ کسی قسم کی ریشہ دوانی کا حصہ ہونے کی تردید کرچکے ہیں۔

روسی صدر نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’’کیا کوئی اس بات کا یقین کرے گا کہ روس ہزاروں میل کی دوری سے امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوا تھا۔کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرے گا اورا س الزام کو مضحکہ خیز ہی جانے گا‘‘۔انھوں نے کہا:’’ ہمارا مقصد مداخلت نہیں تھا۔ہم نے اس مداخلت سے اپنا کوئی مقصد پورا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کی صدارتی انتخابات میں اس مبینہ مداخلت کی مذمت میں کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کر چکے ہیں جبکہ امریکا کی سراغرساں ایجنسیوں کے سربراہوں نے گذشتہ ماہ یہ کہا تھا کہ روس نے امریکا کی سیاست میں مسلسل مداخلت جاری رکھی ہوئی ہے اور اس سے آیندہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں