روحانی کی ٹرین یا سفینہ، کون سی چیز ایرانی نظام کی زیادہ عکّاس؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایران میں 1979ء کے انقلاب کے نتیجے میں "اسلامی جمہوریہ ایران" کے نام سے جنم لینے والی مسلکی مذہبی ریاست میں اقتدار کے حوالے سے تنازع آج تک جاری ہے۔ یہاں تک کہ آج دنیا کے اس منظر کو دیکھ رہی ہے کہ ایک جانب رہبرِ اعلی علی خامنہ ای اور ان کے ہمنوا بنیادی پرستی اور سخت گیری کے کنارے پر کھڑے ہیں جب کہ صدر حسن روحانی اور ان کا اعتدال پرست اصلاح پسند گروپ دوسری جانب موجود ہے۔

البتہ چوں کہ "ولیِ فقیہ" کی حیثیت سے علی خامنی ای کو آئین کی جانب سے وسیع اختیارات حاصل ہیں، اس لیے بطور صدر حسن روحانی کے پاس صرف یہ آپشن ہے کہ وہ وقتا فوقتا تہران کے نظام کے سخت گیر اور متشدد مواقف کے حوالے سے انتباہات اور خبردار کرتے رہا کریں۔

اس حوالے سے روحانی نے جمعرات کے روز بھی ایک انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے اپنے مخاصمین کو خبردار کیا کہ وہ روحانی کی حکومت کو کمزور نہ کریں۔ اس لیے کہ تمام لوگ ایک ہی سفینے پر سوار ہیں، اگر اس کی ایک جانب بوجھ سے نیچے گئی تو سفینہ اور اس میں سوار تمام لوگ ہی بنا استثنا غرق ہوں گے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ISNA کے مطابق روحانی نے بدھ کے روز وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی حکومت پر تنقید کرنے والوں پر نکتہ چینی کی۔ روحانی کے خیال میں ان عناصر کی کوششوں کا "برعکس نتیجہ" سامنے آ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ حسن روحانی نے انقلابِ ایران کے 39 برس مکمل ہونے پر 11 فروری کو اپنے خطاب میں ایرانی نظام کو ایک ٹرین سے تشبیہ دی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ منحرف عناصر ایک بار پھر "انقلاب کی ٹرین" سے آ کر جڑ جائیں۔

واضح رہے کہ انقلاب کے بعد 39 برس کے دوران ایرانی نظام کے ہزاروں ہمنوا منحرف ہوئے۔ ان میں بعض کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور بہت سوں کو جیل میں سڑنے ڈال دیا گیا۔ ان کے علاوہ منحرفین کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک فرار ہو گئی جب کہ بعض نے خاموشی اور گوشہ نشینی کا راستہ اپنا لیا۔

روحانی کا کہنا تھا کہ "جب انقلاب فتح یاب ہوا تو ہم سب ساتھ تھے اور انقلاب کی ٹرین میں بہت سے مسافر تھے۔ تاہم بعض لوگوں نے ذاتی طور پر ٹرین سے اتر جانے کا فیصلہ کر لیا جب کہ بعض کو ہم نے اتار دیا۔ ہمارے بس میں تھا کہ ایسا نہ کرتے"۔ روحانی نے تمام بنیاد پرستوں اور اصلاح اور اعتدال پسندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے آئین کی پاسداری کریں اور ایک بار پھر "انقلاب کی ٹرین" میں سوار ہو جائیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ روحانی کے سابقہ بیان پر کسی نے کان نہیں دھرا جس میں انہوں نے ایرانی نظام کو ٹرین قرار دیا تھا۔ آج ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد وہ ایرانی نظام کو اُس سفینے سے مشابہت دینے پر مجبور ہو گئے جو ڈگمگا رہا ہو۔ اسی واسطے وہ انتباہ کی سطح سے اب خبردار کرنے کی سطح پر آ گئے ہیں۔ روحانی کے نزدیک جوہری مذاکرات کے ذریعے ان کی ٹیم نے جن پابندیوں کو منسوخ کروایا تھا اب وہ ایک مرتبہ پھر عائد ہونے کے لیے پَر تول رہی ہیں۔ جعمرات کے روز اپنے خطاب میں روحانی نے باور کرایا کہ رہبرِ اعلی کی جانب سے خطے میں مداخلت کے اصرار کے سبب ایران کو زیادہ شدید پابندیوں اور قدغن کا خطرہ درپیش ہے۔

تاہم ایران ابھی تک یورپ کی اُن سفارتی کوششوں کو مسترد کر رہا ہے جو تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام ، خطے میں ملیشیاؤں کی سپورٹ اور اندرون ملک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مذاکرات کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں۔

غالبا ایران کے انکاری ہونے کی نمایاں ترین علامات میں فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں کا رواں ہفتے کے آغاز پر ایران کا دورہ تھا۔ وہ تہران کی جانب سے اپنے منہ پر مذاکرات کا دروازہ بند کر دیے جانے کے بعد ناکام لوٹ گئے۔

با خبر حلقوں کے مطابق پابندیوں کے ایک بار پھر عائد ہونے کی صورت میں توقع ہے کہ ایرانی نظام کا سفینہ ایک ایسے برفانی پہاڑ سے ٹکرائے گا جس کی ابھی صرف چوٹی نمودار ہوئی ہے۔ بالخصوص معاشی حالات، بے روزگاری میں اضافے اور سیاسی اور سماجی مطالبات کے خلاف تشدد کے راستے کے سبب اقتصادی، سماجی اور سیاسی حوالے سے ایران کی اندرونی صورت حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کے روز ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا "خامنہ ای اور روحانی کو لڑنے دو"۔ مضمون میں دونوں لکھاریوں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں انقلابی عناصر عموما ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں تاہم حالیہ عرصے میں حکمراں طبقے کے درمیان مذمت کی سطح ایک نئی بلندی کو چُھو رہی ہے۔

صدر روحانی اور ان کے مقابل عناصر کے بیچ شدید جنگ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مضمون کے مطابق مُلاّئی نظام کی دشمنانہ خارجہ پالیسی اور جوہری خواہشات کے پیشِ نظر ایران میں اقتدار کے حوالے سے تنازع اور لڑائی امریکی مفاد میں ہے۔

مضمون میں حوالہ دیا گیا ہے ک ہ2009ء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران حکمراں طبقے کی اکثریت جن میں حسن روحانی شامل تھے رہبر اعلی علی خامنہ ای کے گرد منڈلاتی رہی۔ البتہ دسمبر 2017 اور جنوری 2018 میں سامنے آنے والے احتجاج میں نظام کی قیادت کے درمیان وسیع پیمانے پر انتشار اور شورش دیکھنے میں آئی۔ لہذا آپس میں دست و گریباں ایرانی نظام کے دھڑے اس تنازع کے سبب اپنی قانونی حیثیت کھوتے جا رہے ہیں۔

مضمون نگاروں نے ایران کی صورت حال کے نتیجے کے طور پر کہا ہے کہ اقتدار سے متعلق تنازع اور حکم راں انقلابیوں اور مذہبی شخصیات کے درمیان سازشوں کا جاری رہنا اسلامی جہوریہ کے نظام کو اختتام تک پہنچا سکتا ہے۔ عوامی عدم اطمینان اور غم و غصّے اور اقتصادی کمزوری کے سبب اس نظام کے مفلوج ہو جانے کا امکان ہے۔

مضمون کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ "ایران ایک آتش فشاں بن چکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ آتش فشاں پھٹ جائے۔ یہ دھماکا جتنا جلد ہو.. امریکا اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں