کرنل قذافی کی میت کہاں مدفون ہے ؟ لیبیا میں پھر بحث چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر مقتول معمر قذافی کی لاش کے بارے میں ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ کہاں گئی اور اس کو کہاں دفن کیا گیا تھا؟

سعودی عرب میں لیبیا کے سابق سفیر محمد سعید آل قشاط نے روسی خبررساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ کرنل معمر قذافی کی قبر کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں ہے۔اکتوبر 2011ء میں ان کی ناگہانی موت کے بعد ان کی لاش مصراتہ بریگیڈز کے حوالے کی گئی تھی ۔ وہ ایک ہفتے تک ایک مردہ خانے میں پڑی رہی تھی۔پھر اس کو غسل دیا گیا اور ان کی میت پر نماز جنازہ ادا کی گئی تھی ۔اس کے بعد کچھ معلوم نہیں کہ ان کی میت کدھر گئی تھی ۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مقتول صدر کے بعض رشتے داروں اور قبائلی سرداروں نے ان کی میت حوالے کرنے اور پھر قبر کی جگہ کی نشان دہی کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مصراتہ بریگیڈ نے تدفین کی جگہ کے بارے میں کچھ بتایا تھا اور نہ اب تک کسی کو اس حوالے سے کچھ معلوم ہوسکا ہے۔

معمر قذافی کی اندوہ ناک موت کے بعد لیبی حکام نے انھیں کسی نامعلوم مقام پر دفن کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ان کے قبیلے قذافہ نے اس وقت ملک کے نظم ونسق کی ذمے دار قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل سے میت حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن وہ بے اختیار تھے اور یہ مطالبہ پورا نہیں کرسکے تھے۔

واضح رہے کہ مقتول صدر کے آبائی شہر سرت میں ماضی میں قذافی خاندان کی قبور کو اکھاڑ ا جا چکا ہے۔قذافی قبیلے کے ایک سردار نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشر ق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان نے مقتول صدر کی میت کا معاملہ دوبارہ سامنے لانے پر اپنے غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں