.

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا "ریستوران" میں جنسی ہراسیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں رکن پارلیمنٹ لیونیڈ سلوتسکی کی جانب سے جنسی ہراسیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل کئی روسی صحافی خواتین مذکورہ رکن پارلیمنٹ پر اسی نوعیت کے الزام عائد کر چکی ہیں۔

وزارت خارجہ کی ترجمان نے روسی چینل NTV سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روس کے شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک ریستوران میں "لیونیڈ نے اس نوعیت کی باتیں کیں جو مجھے کسی طور بھی پسند نہیں آئیں"۔ ماریا کے مطابق وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ وہاں موجود لوگوں نے اُس وقت کچھ بھی نہیں کہا اور ماریا کو سپورٹ بھی نہیں کیا۔ روسی ترجمان کے مطابق یہ واقعہ پانچ برس پرانا ہے جب وہ کوئی جانی پہچانی شخصیت نہیں تھیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 4 صحافی خواتین نے لیونیڈ سلوتسکی پر الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ میں بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے موجودہ سربراہ نے جنسی نوعیت کے تبصروں یا بوسے پر مجبور کر کے انہیں ہراساں کیا تھا۔

لیونیڈ نے پہلے تو الزامات کو "گھٹیا اشتعال انگیزی" قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور پھر 50 سالہ رکن پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز پہلی مرتبہ متاثر خواتین سے معافی مانگ لی۔

لیونیڈ نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "میں اُن تمام خواتین سے معافی چاہتا ہوں جو ان میرے سبب دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تشویش کا شکار ہوئیں۔ میں نے کسی زیادتی کی نیت سے ایسا نہیں کیا"۔