شمالی کوریا کے ساتھ کامیاب بات چیت دنیا کے لیے بہت فائدہ مند ہو گی : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پیونگ یانگ "امن چاہتا ہے" اور شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ان کی ملاقات کا نتیجہ "دنیا کے لیے عظیم ترین معاہدے" کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

"دنیا کے لیے عظیم ترین معاہدہ یا پھر ناکامی".. جی ہاں امریکی صدر اپنے شمالی کوریائی ہم منصب اور سخت ترین دشمن کم یونگ اُن کے ساتھ آئندہ ملاقات کے نتائج کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں۔

امریکی ریاست پنسلوینیا میں ایک اجتماع کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ وہ امن کو عمل میں لانا چاہتے ہیں، میرے نزدیک اس کا وقت آ چکا ہے"۔

امریکی صدر نے شمالی کوریا پر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اُن کے اور کم یونگ اُن کے بیچ تاریخی مذاکرات کے وقت تک کوئی میزائل تجربہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق "ہمارے سامنے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں یہ بہت فائدہ مند امر ثابت ہو گا کیوں کہ ہمیں بڑی سپورٹ حاصل ہے"۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پیونگ یانگ جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شمالی کوریا کے حوالے سے ٹرمپ کا یہ حیران کن بیان اور نیا لہجہ امریکی صدر کے اُس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دو طرفہ سربراہ ملاقات منعقد کرنے کے حوالے سے شمالی کوریا کے سربراہ کی دعوت قبول کرتے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ "شمالی کوریا نے 28 نومبر 2017 کے بعد کوئی میزائل تجربہ نہیں کیا، اُس نے ہماری ملاقاتوں کے دوران بھی اس پر کاربند رہنے کا عہد کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کریں گے"۔

وہائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم یونگ اُن کے درمیان ملاقات کی تاریخ کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے جمعے کی شام جاری بیان میں کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور جوہری اور میزائل تجربات روکنے کے حوالے سے پیانگ یانگ کے وعدوں سے مطابقت رکھنے والے اقدامات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات نہیں کریں گے۔

یہ بات امریکی نیٹ وچک "ABC" نیوز نے یہ بات وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کے حوالے سے بتائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں