.

لندن میں سفارت خانے پرحملے کا ذمہ دار برطانیہ ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت نے لندن میں قائم سفارت خانے پرمشتعل بلوائیوں کے دھاوے اور احتجاج کی ذمہ داری برطانیہ پر عاید کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز لندن میں قائم ایرانی سفارت خانے پر ہونے والی یلغار کے پیچھے برطانوی حکومت کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔ حکومت نے بلوائیوں کو سفارت خانے پر حملے سے روکنے کے بجائے خاموشی اختیار کررکھی تھی۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز سیکڑوں افراد نے لندن میں قائم ایرانی سفارت خانے پر یلغار کردی تھی۔ سفارت خانے سے ایرانی پرچم بھی اتار پھینکا تھا۔ احتجاجی مظاہرین کا تعلق عراق کے ایک سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ حسین الشیرازی کے حامیوں سے تھا جو اپنے ’مرشد‘ کی ایران میں گرفتاری پر احتجاج کررہے تھے۔

آیت اللہ حسین الشیرازی کو حال ہی میں ایران کے قم شہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ علامہ الشیرازی ایرانی سپریم لیڈر پر تنقید کے باعث مشہور ہوئے تھے۔ انہوں نے سپریم لیڈر کو ‘ظالم‘ اور ’فرعون‘ قرار دیا تھا۔

ایرانی حکام نے برطانیہ سے لندن میں اپنے سفارت خانے پر حملے پر شدید احتجاج کیا ہے مگر وہ بھول گئے کہ سنہ 2016ء میں تہران میں سعودی عرب اور 2011ء میں برطانوی سفارت خانے پر بلوائیوں نے کس طرح حملے کیے تھے۔ سعودی عرب اور برطانیہ کے سفارت خانوں پر حملوں میں قصور وار قرار دیے گئے افراد کو آج تک سزا نہیں دی جاسکی ہے۔

ایرانیی حکومت کے ترجمان محمد باقر نو بخت نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ہم تک جو معلومات پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر مشتعل افراد کےحملے کے کئی گھنٹے بعد پولیس پہنچی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی پولیس سفارت خانے کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

خبر رساں دارے ’ارنا‘ کے مطابق جمعہ کے روز تہران میں قائم ایرانی سفارت خانے کو شیرازی گروپ کی طرف سے وحشیانہ توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔ پولیس اس سارے منظر کے دیکھتی رہ گئی اور بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

ایرانی قومی سلامتی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی نے لندن میں ایرانی سفارت کانے پر حملے کو برطانوی پولیس کی ملکی بھگت کا نتیجہ قرار دیا۔

اسیرانی قومی سلامتی کے ایک دوسرے عہدیدار کمال دھقانی فیروز آبادی نے پارلیمنٹ آج خصوصی اجلاس منعقد کرے گی جس میں لندن میں ایرانی سفارت خانے پرایک گروپ کی طرف سے حملے اور یورپی یونین کے ساتھ ایرانی تعلقات پر غور کیا جائے گا۔