.

امریکی کانگریس کا قطر سے فوجی اڈا کسی اور ملک میں منتقل کرنے کے مطالبات پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید امریکی ائیر بیس کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کے مطالبات کا جائزہ لے رہی ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس فوجی اڈے کو بحرین ، متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کے نزدیک واقع علاقے الظفرا ، اردن کے مشرقی علاقے زرقا اور عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

امریکا قطر کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق العدید کے فوجی اڈے کو 2023ء تک استعمال کر سکتا ہے۔اس ضمن میں معاہدے کی 2013ء میں دس سال کے لیے تجدید کی گئی تھی۔

العدید کا فضائی اڈا اس وقت امریکا کی داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے ایک مرکز کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ماضی میں امریکی لڑاکا طیارے یہیں سے اڑ کر افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں۔اس ائیر بیس پر امریکا کے ایک سو سےزیادہ لڑاکا طیارے اور دس ہزار سے زیادہ فوجی اور دیگر اہلکار موجود ہیں۔

گذشتہ سال جون میں جب قطر اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی بحران کا آغاز ہوا تھا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر العدید ائیربیس کو کسی اور جگہ منتقل کرنے کی ضرورت پیش آئی تو ان کے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں اور خطے میں متعدد ممالک امریکی فورسز کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی فضائیہ کے ایک سابق جنرل اور امریکا کی یورپی کمان کے سابق ڈپٹی کمانڈر چارلس والڈ نے دسمبر میں فاکس نیوز کی ویب سائٹ پر شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اب قطر کو انتخاب کرنا ہے اور یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ امریکا کا اتحادی برقرار رہنے کا انتخاب کرتا ہے جو تمام دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہو اور وہ امریکا کا ایران اور اس کے گماشتہ گروپوں کے خلاف قومی سلامتی کے ایشوز پر حقیقی طور پر ساتھ دیتا ہے یا پھر وہ اپنی دُہری خارجہ پالیسی کو جاری رکھتا ہے۔