.

ایران میں حادثے کا شکار تُرک طیارے میں "مینا" اپنی 7 سہیلیوں کے ساتھ سوار تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کا ایک نجی طیارہ اتوار کے روز شارقہ سے استنبول آتے ہوئے ایران میں ایک پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ترکی میں ہلالِ احمر تنظیم کے سربراہ نے کریم کینک نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ کینیڈا کا تیار کردہ Bombardier Challenger 604 ماڈل کا یہ طیارہ ایرانی درالحکومت تہران سے 370 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع شہر "شہر کرد" کے نزدیک ایک پہاڑ سے ٹکرا گیا۔

حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں 28 سالہ ترک نوجوان خاتونMina Başaran اور اس کی 7 سہیلیوں کے علاوہ عملے کے 3 افراد بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ مینا باشاران ترکی کے مشہور ارب پتی تاجر Hüseyin Başaran کی اکلوتی بیٹی تھی۔ حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت طیارہ مینا کے والد کی ایک ہولڈنگ کمپنی کی ملکیت تھا۔ مینا آئندہ ماہ 14 اپریل کو تُرک بزنس مینMurat Gezer کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی تھی۔ شادی سے قبل وہ اپنی سات سہیلیوں کو لے کر یادگار وقت گزارنے کے لیے دبئی گئی تھی۔

ساٹھ سالہ حسین باشاران کی "باشاران ہولڈنگ کمپنی" مختلف سیکٹروں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ ان میں پراپرٹی، سیاحت اور بینکنگ شامل ہے۔

حسین باشاران کئی کمپنیوں کے مالک ہیں جو مختلف سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔ حسین باشران کے تعمیراتی منصوبوں میں استنبول کے ایشیائی حصّے میں ایک ہاؤسنگ کا منصوبہ شامل ہے۔ حسین نے اس کو اپنی بیٹی کی نسبت سے "مینا ٹاورز" کا نام دیا ہے۔

انسٹا گرام پر مینا باشاران کے اکاؤنٹ کے 69 ہزار فالوورز ہیں اور اس پر 347 تصاویر موجود ہیں۔ مینا نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ اس نےEuropean Business School سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی جو برطانوی دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔ وہ ترکی کے جنوب مغرب میں واقع شہر بوڈروم میں سیاحتی مقامRamada Resort کی مالک بھی ہے۔ اس کے علاوہ یاٹ بنانے والی ایک کمپنیCMB Yachts بھی مینا کی ملکیت میں ہے۔

ابھی تک حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں البتہ تباہ ہونے والے طیارے کا بلیک بکس مل گیا ہے۔ جائے حادثہ کے نزدیک علاقے میں عینی شاہدین نے ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کو بتایا کہ پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں 7 ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینس کی 5 گاڑیاں جائے حادثہ کی جانب روانہ ہو گئیں۔