.

عوامی احتجاج کی لہر جلد دوبارہ بھڑک سکتی ہے: ایرانی وزیر داخلہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی نظام کے خلاف عوامی احتجاج کی لہر جلد واپس آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "احتجاج کی آگ پھر سے بھڑکانے کے لیے ایک شرارہ ہی کافی ہے"۔

اتوار کے روز سرکاری اخبار "ایران" کو دیے گئے انٹرویو میں فضلی نے عوامی احتجاج کو بیرونی عوامل سے نتھی کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں نے متحرک نہیں کیا تھا۔

ایرانی وزیر داخلہ نے باور کرایا کہ "احتجاج کی وجوہات اب بھی قائم ہیں اور سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سکیورٹی امور کے حوالے سے عوام ایرانی نظام کے بارے میں عدم اطمینان کا شکار ہیں۔

فضلی کے مطابق حالیہ مظاہروں میں 60% سے زیادہ احتجاج کرنے والوں کا تعلق نوکری پیشہ طبقے سے تھا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے مطالبہ کیا کہ ان احتجاجی مظاہروں سے عبرت حاصل کر کے لوگوں کے مطالبات کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے 100 شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران 42 شہروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں جب کہ مظاہروں کے دوران داخلہ سکیورٹی فورسز کے 900 اہل کار زخمی ہوئے۔

ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق حالیہ مظاہروں میں احتجاج کا سلسلہ اُن شہروں اور علاقوں تک پھیل گیا جن کا نام ان واقعات سے قبل بہت سے لوگوں نے سنا بھی نہیں تھا۔