.

موجودہ عالمی مالیاتی نظام ایک ٹائم بم ہے: نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کا کہنا ہے کہ دنیا کی تمام تر دولت چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور عالمی مالیاتی نظام آج ایک "ٹائم بم" کی صورت اختیار کر گیا ہے جو ایک روز دھماکے سے پھٹ جائے گا۔ اگر اس نظام کی درستی عمل میں نہ لائی گئی تو نتیجے میں بہت بڑے مسائل جنم لیں گے۔

سال 2006ء میں امن کا نوبل انعام اپنے نام کرنے والے ڈاکٹر محمد یونس اپنے تجزیوں کے سبب مشہور ہیں۔ العربیہ نیوز چینل نے Emirates Airline Festival of Literature کے موقع پر ڈاکٹر یونس سے خصوصی بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ "دنیا کی کُل دولت کا 50% سے زیادہ حصّہ صرف 8 افراد کے پاس ہے اور دنیا کی 99% دولت صرف 6 ملکوں میں موجود ہے۔ ہم اس کو نظام نہیں کہہ سکتے، یقینا یہ نظام کے نام پر ایک مذاق ہے"۔

ڈاکٹر یونس پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ موجودہ نظام سرمایہ دارانہ نظام کو بنیادی جوہر ہے اور عالمگیریت نے اس کی مدد کی ہے۔ اس وقت سے روایتی بینکاری کا نظام مسلط ہے اور آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ غریبوں کو مالی رقوم بطور قرض دے سکے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا میں آج ان کے ادارے کی 20 شاخیں کام کر رہی ہیں جن کے ذریعے ایک لاکھ افراد کو قرضہ دیا گیا اور یہ تمام خواتین ہیں۔ ان کے ادارے کی جانب سے دیے گئے قرضوں کی رقم 1500 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔

ڈاکٹر یونس کے مطابق قرض دی گئی رقم کی مالیت ایک ارب ڈالر کے مساوی ہے اور اس کی 100% واپسی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی کمپنیاں اس نوعیت کی سماجی کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر یونس نے میانمار میں روہینگا کمیونٹی کے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے "ایک عظیم انسانی بحران" قرار دیا۔ اقوام متحدہ باور کرا چکی ہے کہ یہ اجتماعی نسل کشی اور نسلی تطہیر کا معاملہ ہے جس کا ذمے دار میانمار کی حکومت اور آنگ سان سو چی کو ٹھہرایا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر یونس نے العربیہ سے گفتگو میں ٹکنالوجی کی پیش رفت کو منظّم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایسے وقت میں جب کہ ہر سال 4 کروڑ نوجوان روزگار کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں.. اگر 'مصنوعی ذہانت' کے نتیجے میں ملازمتوں کا خاتمہ ہوتا ہے تو پھر اس کے استعمال میں جلدی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے"۔ ڈاکٹر یونس کے مطابق ٹکنالوجی کا اچھا رُخ بھی ہے اور غلط رُخ بھی ،،، لہذا ہمیں غلط رُخ سے اجتناب برت کر ٹکنالوجی کی طاقت اور اس کے مثبت کردار پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔