میانمار کے بحران میں فیس بک نے اہم کردار ادا کیا : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

میانمار میں ممکنہ نسل کشی کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے حوالے سے معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے میانمار میں نفرت پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مذکورہ ماہرین کی جانب سے پیر کے روز اس تنقید کے جواب میں فیس بک کمپنی کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ فیس بک نے جنوری میں میانمار کے انتہا پسند رہ نما "ویراتھو" کا اکاؤنٹ نفرت انگیز مواد کے سبب ختم کر دینے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں میانمار میں سکیورٹی آپریشن کے نتیجے میں صوبہ راکھین سے 6.5 لاکھ سے زیادہ روہینگا مسلمان فرار ہو کر بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔ میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کے دوران لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور خواتین کی عصمت دری کی کارروائیوں کے حوالے سے متعدد شہادتیں سامنے آئیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار میں حقائق کا کھوج لگانے والے کود مختار بین الاقوامی مشن کے سربراہ مرزوقی داروسمان نے صحافیوں کو بتایا کہ میانمار میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں نے "فیصلہ کن کردار" ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے بیچ پھوٹ اور تنازع پھیلانے میں ان ویب سائٹوں نے مرکزی طور پر حصّہ لیا۔

میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی تحقیق کار یانگے لی کا کہنا ہے کہ "میانمار میں لوگوں کی زندگی میں فیس بک کا بڑا عمل دخل ہے۔ ویب سائٹ نے غریب ملک کا بڑی مدد کی ہے مگر اس کو نفرت انگیز مواد پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شدت پسند قوم پرست بدھسٹ عناصر کے فیس بک پر ذاتی صفحات ہیں اور یہ لوگ عملی طور پر روہینگا اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بہت زیادہ نفرت اور تشدد پر مبنی جذبات پھیلاتے ہیں"۔

واضح رہے کہ میانمار میں سب سے زیادہ شدت پسند بُدھ راہب ویراتھو کے خطاب پر عائد پابندی ہفتے کے روز ختم ہو گئی ہے۔ ویراتھو کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف اس کی نفرت انگیز تقریروں کا راکھین میں ہونے والے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں