امریکا کی روس کے خلاف صدارتی انتخابات میں مداخلت پرنئی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس کی خفیہ ایجنسیوں اور کم سے کم بیس افراد پر نومبر 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور سائبر حملوں کے الزام میں پابندیاں عاید کردی ہیں۔

امریکا نے روس کے جن پانچ اداروں اور انیس افراد پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں ،ان میں روس کی مرکزی خفیہ ایجنسی ایف سی بی ، ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی یا جی آر یو اور وہ تیرہ افراد بھی شامل ہیں، جنھیں حال ہی میں رابرٹ میولر نے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا قصور وار قرار دیا ہے۔ مسٹر میولر روس اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی امریکی صدارتی انتخابات میں مبیّنہ مداخلت کی تحقیقات کررہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پٹیا سائبر حملے اور امریکا کے انرجی گرڈ کو ہیک کرنے کی کوشش کرنے کے ذمے دار افراد پر بھی پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے نام بلیک لسٹ کردیے ہیں، ان کے امریکا میں اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور وہ امریکی افراد یا اداروں سے کوئی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ اس بات کی تردید کرچکے ہیں کہ روس نے امریکا میں سیاسی انتشار کے بیج بونے کی کوشش کی تھی یا انتخابات کو ان کے حق میں پھیرنے کی کوشش کی تھی۔انھیں یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ اگر وہ اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں تو پھر ان کی ہلیری کلنٹن کے خلاف جیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ ان الزامات کو متعدد مرتبہ مسترد کر چکے ہیں کہ ان کی انتخابی مہم نے کریملن سے مل کر کوئی ساز باز کی تھی جس کے نتیجے میں ان کی جیت یقینی ہوئی تھی۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن نوچین نے کہا ہے کہ ’’ انتظامیہ روس کی مذموم سائبر سرگرمی ، تخریبی سائبر حملوں اور اہم انفرااسٹرکچر میں مداخلت کا مقابلہ کررہی ہے ۔ یہ اہدافی پابندیاں روس کی جانب سے مذموم حملوں کے مقابلے کے لیے ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں‘‘۔

امریکی محکمہ خزانہ نے روس کے جن اداروں اور شخصیات پر یہ نئی پابندیاں عاید کی ہیں ،ان میں سے بعض پر پہلے ہی صدر براک اوباما کے دور سے یوکرین بحران میں کردار پر سفری پابندیاں عاید ہیں اور امریکا میں ان کے اثاثے منجمد ہیں ۔ان میں روس کی خفیہ ایجنسیاں اور ان کے سرکردہ عہدے دار شامل ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے روس کے خلاف یہ نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے ، جب برطانیہ میں ایک سابق روسی ڈبل ایجنٹ پر زہریلی گیس سے قاتلانہ حملے کے الزام میں روس کے خلاف نئے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس واقعے پر برطانیہ نے اس سے سفارتی روابطہ منقطع کر لیے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے روس کے پانچ اداروں اور انیس افراد کو بلیک لسٹ قرار دینے کے بعد روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے ردعمل میں روس کا جواب تیار کیا جارہا ہے۔

انھوں نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’’ہم بڑے سکون سے اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ہم نے اس کے جوابی اقدامات کی تیاری شروع کردی ہے‘‘۔انھوں نے امریکا کے اقدام کو روس میں آیندہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں