فرانس سابق روسی جاسوس کو برطانیہ میں زہردینے پر آیندہ دنوں میں اقدامات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے برطانیہ میں سابق روسی ڈبل ایجنٹ کو زہر خورانی کے واقعے ردعمل میں آیندہ دنوں میں اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن انھوں نے وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ کیا اقدام کرنے جا رہے ہیں۔

ماکروں نے وسطی فرانس کے دورے کے موقع پر جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ناقابل قبول حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا:’’ہر چیز کے اشاروں کی بنیاد پر ہم یہ یقین سکتے ہیں کہ روس ہی اس واقعے کا ذمے دار ہے اور برطانوی انٹیلی جنس سروسز نے اپنے کام کا فرانسیسی سروسز سے تبادلہ کیا ہے،اس سے بھی اس امر کی تصدیق ہوئی ہے‘‘۔

فرانسیسی صدر نے اس واقعے پر آیندہ دنوں میں اپنے اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا وہ روس کے خلاف کوئی جوابی اقدامات ہوں گے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ جرمن چانسلر اینجیلا میرکل سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے ۔ وہ جمعہ کو پیرس کے دورے پر آنے والی ہیں۔

ادھر کریملن نے برطانیہ کی جانب سے سابق ڈبل ایجنٹ کو زہر خورانی پر روس کے خلاف تعزیری اقدامات کی مذمت کی ہے اور انھیں یکسر غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا موقف بالکل غیر ذمے دارانہ ہے۔اس کے جواب میں بہت جلد اقدامات کیے جائیں گے اور صدر پوتین روس کے مفاد میں ان اقدامات کا انتخاب کریں گے۔

برطانیہ نے بدھ کے روز روس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے دو طرفہ روابط معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کو دیا گیا دورے کا دعوت نامہ بھی منسوخ کردیا تھا ۔برطانوی وزیراعظم تھریز امے نے دارالعوام میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس سابق ڈبل ایجنٹ کو زہر خورانی کا ذمے دار ہے، برطانیہ اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تمام دوطرفہ روابط منقطع کر دے گا اور روس کے 23 سفارت کاروں کو بے دخل کر دے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سفارت کار دراصل غیر علانیہ انٹیلی جنس افسر ہیں۔ وہ ایک ہفتے کے اندر برطانیہ سے واپس چلے جائیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر سکریپال اور ان کی بیٹی کو روس کے تیارکردہ فوجی درجے کے اعصابی ایجنٹ نوویچوک کے ذریعے زہر دیا گیا تھا۔ اب اس کے دو امکان ہو سکتے ہیں ،ایک یہ کہ روسی ریاست نے براہ راست ہمارے ملک میں یہ اقدام کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ روسی حکومت فوجی درجے کے اس اعصابی ایجنٹ پر کنٹرول کھو بیٹھی ہو اور وہ دوسروں کے ہاتھ لگ گیا ہو لیکن روس نے اب تک ایسی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس کا اعصابی ایجنٹ پر کنٹرول نہیں رہا تھا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں