ٹیلرسن کی برطرفی،ایران سے معاہدے کا امریکی بائیکاٹ نوشتہ دیوار

ریکس ٹیلرسن کی برطرفی پر ایران مضطرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے والے ریکس ٹیلرسن کو وزارت خارجہ کے عہدے سے ہٹائے جانے اور مائیک پومپیو کو ان کی جگہ وزارت عظمیٰ کا قلم دان سونپے جانے پر ایران میں سخت تشویش پائی جار ہی ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کےمطابق ایران ریکس ٹیلرسن کی برطرفی کو ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے امریکی بائیکاٹ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ایسنا‘ نے نائب وزیرخارجہ عباس عرقجی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ٹیلرسن کی برطرفی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکلنے کا مصمم ارادہ کرچکا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی پالیسی میں تبدیلیاں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امریکا اب زیادہ دیر تک ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ریکس ٹیلرسن کو اس لیے بھی عہدے سےہٹایا کیونکہ وہ ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتےکو برقرار رکھنے کے حامی تھے۔ ان کی برطرفی کے دیگر اسباب میں سے ایک اہم سبب ایران کے حوالے سے ان کی ذاتی پالیسی بھی تھی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے سے نکلنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں جب کہ ٹیلرسن حکومت کو ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے پر عمل درآمد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

امریکی صدر نے جنوری میں یورپی ملکوں کو خبردار کیاتھا کہ وہ ایران کےساتھ طے پائے سمجھوتے کی خامیوں کو دور کریں ورنہ وہ اس معاہدے کو توڑ دیں گے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے باب میں سفارتی فتح قرار دیا تھا۔

ایرانی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ اگرامریکا اس معاہدے سے نکلتا ہے تو ہم بھی دست بردار ہوجائیں گے۔ ہم نے یورپیوں کو کہہ دیا ہے کہ اگر امریکا معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا اس کے بعد ہم سے بھی اس کی پاسداری کی توقع نہ کی جائے۔ اب یہ یورپی ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا کو سمجھوتے پرقائم رہنے پر مجبور کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں