.

حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی مدد ناگزیر ہے: میٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں کے خلاف عرب ممالک کے آپریشن کی حمایت کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے عرب ملکوں کی حمایت اور مدد جاری رکھنا ہو گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ یمن میں آئینی حکومت اور عرب ممالک کی مدد سے ہاتھ پیچھے کھینچا تو اس کے نتیجے میں حوثی مزید جری ہو جائیں گے۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یمن کے لیے امریکی معاونت محدود انٹیلی جنس سروسز تک محدود ہے۔ عرب اتحادی فوج کو ایندھن کی سپلائی کی بحالی کا مقصد اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل میں مدد دینا ہے۔

جیمز میٹس نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ یمن میں جاری کشمکش کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے یمن کے تنازع کے پرامن حل تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یمنی فوج کے لیے امریکا کی محدود امداد شہریوں کے جانی نقصان میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہمیں اپنے عرب اتحادیوں کی مدد کرنا ہو گی۔ ہمیں سعودی اتحادیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا کرنے سے یمن میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ کانگریس کے بعض ارکان جن میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس کے علاوہ آزاد رکان بھی شامل ہیں سنہ 1973ء کی جنگ کے حوالے سے منظور کردہ بل کے اختیارات کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت امریکی سینٹ کے کسی بھی رکن کو کانگریس میں بل پیش کرنے کا اختیار ہے۔ اس بل میں کوئی بھی رکن سینٹ کانگریس کی اجازت کے بغیر کسی علاقے میں بھیجی گئی فوج کو واپس لانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔