.

سلامتی کونسل کے "مرکزی بیان" میں حوثیوں کے جرائم کی سخت مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز یمن کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں شہریوں کی زندگی کو درپیش خطرات کی مذمت کی گئی جب کہ عرب اتحاد کی طرف سے شہریوں کے لیے امداد کے منصوبے کو سراہا گیا۔

بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی بھی مذمت کی گئی۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ یمن آنے والے بحری جہازوں کی تلاشی لی جائے تا کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکی جا سکے۔ بیان میں سلامتی کونسل نے باغی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ روک دے۔

سلامتی کونسل نے یمن میں گنجان آباد علاقوں میں شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکولوں ، طبی اداروں اور ملازمین کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔

بیان میں یمن میں انسانی صورت حال کے بڑے پیمانے پر بگڑ جانے کی مذمت کی گئی جہاں اس وقت 2.22 کروڑ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔ اس تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 لاکھ افراد کا اضافہ ہو گیا ہے۔

سلامتی کونسل نے یمن میں انسانی صورت حال کے مسلسل بگڑنے اور تنازع کے شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے "مرکزی" بیان جاری کرنے کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا لازم ہوتا ہے۔