.

قطر، ایران اور دہشت گردی کی تکون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے ایک مرتبہ پھر اُس تاوان کے معاملے پر روشنی ڈالی ہے جو دوحہ نے عراق اور شام میں قطری "یرغمالیوں" کی رہائی کے لیے دہشت گرد جماعتوں کو ادا کیا تھا۔ دوحہ 77 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر کے عراق میں اغوا ہونے والے اپنے شہریوں کو آزادی کرانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

امریکی اخبار کی رپورٹ میں "قطر - ايران - دہشت گردی" کے تکون کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو طبعی طور پر دوحہ میں قطری عہدے داران اور عراق میں دہشت گرد جماعتوں کے درمیان کھلے رابطوں کا عکّاس ہے۔

بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں اخبار کا کہنا ہے کہ مذکورہ قطری شہریوں کو عراق کے صحراء میں پرندوں کا شکار کھیلنے کے بعد قید کر کے یرغمال بنایا گیا۔ قطر نے مذکورہ رقم کا تقریبا آدھا حصّہ یعنی 36 کروڑ ڈالر کی رقم دہشت گرد جماعتوں کو ادا کی۔ تاہم آخرکار ممکنہ طور پر مالی رقوم اُس سیاسی سمجھوتے کے زاویوں سے کم اہمیت کی حامل تھیں جو دوحہ نے ان جماعتوں کے ساتھ طے کیا۔

قطر نے 36 کروڑ ڈالر کی رقم سیاہ رنگ کے 23 کِرمِچی بیگوں میں بھر کر اپنے طیارے کے ذریعے بغداد کے ہوائی اڈے پر پہنچائی۔ دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ قطر کے رابطوں نے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ کو یقینی بنایا۔ یہ رقم ایرانی پاسداران انقلاب، دہشت گرد تنظیم حزب اللہ اور جبہۃ النصرہ کے ہاتھ آئی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 15 اپریل کی شام ایک قطری باشندہ دوحہ سے آنے والی پرواز کے ذریعے بغداد کے وی آئی پی ٹرمینل پر پہنچا۔ اس نے اپنا تعارف اعلی سطح کے حکومتی نمائندے کے طور پر کرایا۔ اس کے ساتھ سفید عربی لباس میں ملبوس 14 ساتھی اور تھے۔ ان افراد کے ساتھ چھوٹے حجم کے 23 سیاہ کِرمِچی بیگز تھے۔ بیگز کافی بھاری تھے اور ان میں سے ہر ایک کا وزن 100 پونڈ کے قریب تھا۔

کسٹم حکام نے تلاشی کے دوران بیگز کے اندر موجود چیزوں کے بارے میں استفسار کیا تو قطری گروپ نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ پوری رات فریقین کے بیچ بحث مباحثہ جاری رہا یہاں تک کہ صبح صادق کے وقت قطری گروپ غصّے میں اپنا سامان چھوڑ کر بغداد روانہ ہو گیا۔ ان کے جانے کے بعد کسٹم حکام نے بیگوں کی تلاشی لی تو اندر سے 36 کروڑ ڈالر کے مساوی کرنسی برآمد ہوئی جو ڈالر اور یورو کی شکل میں تھی۔

اخبار کے مطابق نومبر 2015ء میں باز اور شاہینوں کے قطری شکاریوں پر مشتمل ایک بڑا گروپ فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کے قافلے میں سوار ہو کر دوحہ سے روانہ ہوا۔ یہ قافلہ سعودی عرب میں داخل ہوا اور پھر شمال کی سمت چلا گیا۔ قافلہ کویت کے کچھ حصّے سے گزرا اور پھر عراق کے جنوبی صحرائی علاقے میں پہنچ گیا۔ یہ مقام قطری دارالحکومت دوحہ سے 450 میل کی دوری پر تھا۔

درجنوں افراد پر مشتمل گروپ میں 9 افراد کا تعلق قطر کے حکمراں "آل ثانی" خاندان سے تھا۔ قطری گروپ کی جانب سے منتخب کردہ عراقی صوبہ المثنی کا یہ صحراء کلسٹر بموں اور بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا تھا۔ تین ہفتوں تک قطری شکاریوں نے پوری عیش و عشرت کے ساتھ پرندوں کے شکار کا شوق پورا کیا۔

دسمبر 2015ء کی 15 تاریخ کی رات تین بجے جب کہ صحراء میں شدید سردی اور ٹھنڈی ہوا کا زور تھا ایک خادم تیزی سے خیمے میں داخل ہوا اور شاہی خاندان کے ایک 37 سالہ شکاری ابو محمد (فرضی نام) کو جگا دیا۔ ابو محمد خیمے سے باہر آیا تو اسے چاروں اطراف فوجی وردی میں ملبوس اہل کار اور درجنوں گاڑیاں اور ٹرک نظر آئے جن میں بھاری ہتھیاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وہ ان افراد کو عراقی فوج کا اہل کار سمجھ کر خیمے میں واپس آ گیا کہ شاید ان کی سکیورٹی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

تاہم کچھ دیر بعد مسلح افراد اسے خیمے سے باہر لے کر آئے تو اسے اپنے شاہی خاندان کے لوگ زمین پر اوندھے منہ لیٹے ہوئے نظر آئے جن کے ہاتھوں میں رسّی اور آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ ابو محمد کو یک دم محسوس ہوا کہ داعش تنظیم کے ذریعے ان کو اغوا کیا جا رہا ہے۔

ان تمام افراد کو بڑی وینوں کے ذریعے نامعلوم اور دور دراز مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس دوران ایک اغوا کار نے یرغمالیوں کی جانب رخ کر کے ام المومنین وزوجہ رسول علیہ الصلات والسلام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازیبا کلمات بھی بولے۔ تقریبا تین سے چار گھنٹے بعد ٹرک اور وینیں ایک جگہ پہنچ کر رک گئیں۔ یہاں طیاروں کی آمد و رفت اور فوجیوں کی آوازوں کے علاوہ وقتا فوقتا "يا حسين" کے نعرے بھی سنائی دیے گئے۔ غالبا یہ مقام الناصریہ شہر کے نزدیک طلیل کے فضائی اڈے کے قریب واقع تھا۔ یہ اڈہ جنوبی عراق کا ایک سب سے بڑا عسکری مرکز ہے۔

ایک موقع پر ابو محمد نے اغوا کاروں سے کہا کہ "ہمارے پاس ڈالروں کی صورت میں ایک بڑی رقم ہے جو ہم تم لوگوں کو دے سکتے ہیں"۔ اس پر اغوا کاروں کے گروپ کے سربراہ نے کہا کہ "کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم تمہارا مال لینا چاہتے ہیں؟".

ان افراد کے اغوا کی خبر صبح چھ بجے کے قریب قطر پہنچ گئی جس کے بعد حکومتی عہدے داران اور حکمراں خاندان کے افراد کے درمیان ہنگامی رابطوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اغوا کے کچھ روز بعد ہی دوحہ حکام نے باور کرایا کہ انہیں یقین ہے کہ اغوا ہونے والے افراد کسی شیعہ ملیشیا کے پاس یرغمال ہیں جس کا ایران سے تعلق ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ستمبر 2015ء میں استنبول میں ہونے والے ایک خفیہ اجلاس میں ایرانی بدنام زمانہ کمانڈر قاسم سلیمانی کی القدس فورس کے ایک نمائندے نے "چار قصبوں کے سمجھوتے" کے نام سے معروف معاہدے کی تجویز پیش کی۔ اس معاہدے کے تحت حزب اللہ شام میں لبنانی سرحد کے نزدیک شامی انقلابیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے دو قصبوں مضایا اور الزبدانی کا محاصرہ ختم کر دے گی۔ اس کے بدلے قطر سے فنڈنگ حاصل کرنے والے انقلابی شام کے شمال مغرب میں شیعوں کے دو قصبوں فوا اور کفرایا کا محاصرہ ختم کر دیں گے۔ اس سمجھوتے سے ایران کے دو مقاصد پورے ہونے تھے۔ ایک تو تزویراتی علاقے سے انقلابیوں کے خطرے سے نجات اور دوسرا شمال میں خطرے سے دوچار شیعوں کا بچاؤ.

البتہ استنبول میں موجود انقلابیوں کے ترجمانوں نے اس تجویز کو سخت غصّے میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس منصوبے کو شام میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر آبادی کے طبعی تناسب کی از سر نو تشکیل کے لیے غنڈہ گردی کا طریقہ کار قرار دیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق قطری شکاریوں کے اغوا کی کارروائی کے بعد ایران نے شام میں مذکورہ سنی انقلابیوں یا ان کو فنڈنگ فراہم کرنے والے دوحہ پر کچھ مضبوط رسوخ حاصل کر لیا۔ چاروں قصبوں سے انخلاء کا پلان پھر سے مذاکرات کی میز پر آ گیا۔ اخبار کے مطابق قطری یرغمالیوں کا معاملہ 16 ماہ تک معلّق رہا۔ تاہم آخرکار شام میں آبادیاتی تناسب کی تبدیلی پرتشدد واقعات اور بم باری کے ذریعے عمل میں آئی۔ ادھر قطری یرغمالیوں کی رہائی کو دوحہ کی جانب سے تقریبا 77 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے بعد گزشتہ برس اپریل میں ممکن بنایا گیا۔ یہ رقم دو قسطوں میں مسلح ملیشیا کو دی گئی۔