.

لیبیا: ملٹری پراسیکیوٹر جنرل مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اٹارنی جنرل الصدّیق الصور کے دفتر میں تحقیقاتی بیورو کے سربراہ نے جمعرات کی شام بتایا کہ قومی وفاق کی حکومت کے ملٹری پراسیکیوٹر جنرل مسعود ارحومہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

لیبیا کے مقامی میڈیا کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کے ایک گروپ نے جمعرات کے روز ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کو دارالحکومت طرابلس کے علاقے صلاح الدین میں ان کے گھر کے قریب سے اغوا کر لیا۔

یہ کارروائی لیبیا کی سپریم کونسل کے سربراہ عبدالرحمن السویحلی پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے صرف ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ السویحلی کے قافلے کو گھات لگا کر مسلح حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لیبیا میں صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج نے سیاسی معاہدے کے تحت نومبر 2017ء میں مسعود ارحومہ کو قومی وفاقی حکومت میں ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کے منصب پر مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ مشرقی لیبیا میں عارضی حکومت میں وزیر دفاع کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ ارحومہ فوج کی جنرل کمان اور پارلیمنٹ کے ساتھ اختلافات کے باعث 2015ء کے اواخر میں مذکورہ منصب سے مستعفی ہو گئے تھے۔