.

ایران میں حجاب اتارنے پرایک شخص نے خاتون کو تھپڑ دے مارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں خواتین کی جانب سے حجاب کی پابندی سے متعلق قانون کی خلاف ورزیوں اور ریاست کی جانب سے خواتین پر جبر تشدد کی خبریں روز کا معمول ہیں۔ اسی ضمن میں ایک فوٹیج میں ایک شخص کو تہران میں ایک خاتون کو بھرے مجمع میں حجاب نہ کرنے پر ایک خاتون کو تھپڑ مارتے دیکھاجاسکتا ہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر جمعہ کو ایک فوٹیج پوسٹ کی۔ موبائل فون کے کیمرے میں بنائی گئی اس فوٹیج میں ایک شدت پسند کو ایک خاتون پر چِلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک ٹیکسی اسٹینڈ پر پیش آیا جہاں شدت پسند شخص نے خاتون کو سرنہ ڈھانپے پر اس کے چہرے پر تھپڑے مارے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص بار بار خاتون کو حجاب کا کہتا ہے تاہم خاتون اس کی طرف توجہ نہیں کرتی۔ اس کے بعد وہ اسے تھپڑ مار کر سمجھاتا ہے اور کہتا ہے کہ بے پردگی قانون کے خلاف ہے اور اسے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے حجاب کی پابندی کرنی چاہیے۔

فوٹیج میں تھپڑ مارنے والا شخص خاتون کو ’بہن‘ کہتا ہے جب کہ جواب میں وہ کہتی ہے کہ ’میں تمہاری بہن نہیں ہوں‘۔

خیال رہے کہ ایران میں کسی خاتون کو حجاب نہ کرنے پر سرعام تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس طرح کےواقعات اکثر پیش آنے لگے ہیں۔

فروری میں انٹرنیٹ پر ایک فوٹیج وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خاتون کو ڈائس پر کھڑ ہوکراپنا دوپٹا لہراتے دیکھا گیا۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار اس کےقریب آیا اور اس نے اسے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا تھا۔ اس دوران پولیس اہلکار کی آواز سنائی تھی جو کہہ رہا تھا کہ’انسانی حقوق کہاں ہیں‘۔