.

یمن میں 13 سو سے زیادہ افراد خناق کا شکار ہوگئے : عالمی ادارۂ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے کہا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں خناق کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس سے ایک ہزار تین سو سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور اب تک ستر سے زیادہ افراد خناق کا شکار ہو کر موت کے مُنھ میں چلے گئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں خناق سے بچے اور نوجوان زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور ان کی تعداد 80 فی صد سے زیادہ ہے۔

یمن میں گذشتہ سال اکتوبر میں پہلی مرتبہ خناق کے مرض کی موجودگی کا پتا چلا تھا۔اس سے پہلے گلا متاثر ہوتا ہے ۔خناق (یا برٹو ئلھ ورم قصبیہ) نظام تنفس سے متعلق ایک حالت ہے جو عمومی طور پہ سانس کی بالائی نالی مںا وائرس کے شدید حملے کی وجہ سے پداا ہوتی ہے۔ اس سے تنفس کی باقاعدگی مںل خلل پیدا ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق حال ہی میں یمن کی گیارہ گورنریوں میں خناق سے بچاؤ کے لیے 27 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی ہے۔واضح رہے کہ یمن میں گذشتہ سال سے جاری خانہ جنگی اور جنگ کے نتیجے میں بیشتر اسپتال اور مراکز صحت تباہ ہوچکے ہیں اور ان میں جان بچانے والی ادویہ اور طبی سامان دستیاب نہیں ہے۔