.

حوثی ملیشیا کا گیس بحران کی پردہ پوشی کے لیے اسپتال میں داخل شہریوں پر حملہ ،تین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے شہریوں کی توجہ گیس بحران سے ہٹانے کے لیے اب اسپتالوں پر حملے شروع کردیے ہیں۔صوبے اِب میں حوثیوں کے ایسے ہی ایک حملے میں تین شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

اِ ب میں یہ واقعہ ایک گیس اسٹیشن پر جھگڑے کے بعد پیش آیا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں گذشتہ تین ہفتوں سے گیس کا بحران جاری ہے اور گیس کی قلّت کی وجہ سے عام شہریوں کا حوثی ملیشیا سے لڑائی جھڑرا اب معمول بن چکا ہے۔

گیس اسٹیشن پر جھگڑے میں زخمی ہونے والے افراد کو ایک مقامی اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا لیکن حوثیوں نے اس اسپتال پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے ان زخمیوں کو اغوا کر کے لے گئے اور پھر انھیں قتل کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق حوثی ملیشیا نے قبل ازیں دارالحکومت صنعاء میں دسیوں شہریوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ وہ گیس کے حصول کے لیے ایک گیس اسٹیشن پر لمبی قطاروں میں کھڑے تھے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے گیس کی سپلائی میں اپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے جس کی وجہ سے گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے اور حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں گیس کے ایک سلنڈر کی قیمت 9 ہزار یمنی ریال ہو چکی ہے جبکہ حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں گیس کے سلنڈر کی قیمت صرف 11سو ریال ہے۔

یمنی دارالحکومت میں ایک مانیٹرنگ یونٹ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت 993 گیس اسٹیشن حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے گیس کی فروخت کو کمائی کا ایک ذریعہ بنا رکھا ہے ۔

حوثیوں کے زیر قبضہ شہروں اور علاقوں میں یمنی شہری ان کی ان چیرہ دستیوں اور کھانا پکانے کے لیے گیس کی قلّت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وہ سڑکوں پر نکل کر اور ٹائر جلا کر احتجاج کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اس وقت بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کررہی ہے۔