.

دبئی: اونٹ سے انسان کو منتقل ہونے والے مہلک وائرس کے تدارک کے لیے ویکسین کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی سنٹرل ویٹرینری ریسرچ لیبارٹری اونٹوں سے انسانوں کو منتقل ہونے والے مہلک وائرس مرس کے علاج کے لیے ایک ویکسین کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

مرس کے نام سے اس مہلک وائرس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ان دونوں عرب ممالک میں اونٹ کو پالتو جانور کے طور پر رکھا جاتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کے سلسلے میں مالکان کا ان سے براہ راست جسمانی رابطہ رہتا ہے جس سے یہ وائرس ان میں منتقل ہوجاتا ہے ۔

بین الاقوامی سوسائٹی برائے وبائی امراض کے مطابق مرس وائرس سے اب تک 1750 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں 700 سے زیادہ کی اموات ہوچکی ہیں۔

دبئی کی سنٹرل ویٹرینری لیباریٹری کے سائنٹفک ڈائریکٹر ڈاکٹر اولریچ ویرنرے نے مرس وائرس کے بارے میں بتایا ہے کہ ’’ آپ اس کو اونٹوں کی بیماری نہیں کہہ سکتے ، وہ بیمار نہیں پڑتے ہیں بلکہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس وائرس کے کیرئیر ہوتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایک کوہان والے اونٹ اس وائرس کا گھر ہوسکتے ہیں اور ان سے یہ وائرس ان کے مالکان کو بآسانی منتقل ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اونٹ کے چند ہفتے یا چند ماہ کے بچے چونکہ اونٹنی کا دودھ پی رہے ہوتے ہیں ،اس لیے وہ اس کی وجہ سے اس وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں لیکن جب ان کی عمر چار سے چھے ماہ ہوجاتی ہے تو وہ اس تحفظ سے غیر محفوظ ہوجاتے ہیں اور پھر وہ بھی اس وبائی وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

مرس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا جرمنی اور اسپین میں اونٹوں کی محدود تعداد پر تجربہ کیا گیا ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ماہرین اب اس کا بڑے پیمانے پر تجربہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ آیا یہ ویکسین کام کررہی ہے اور اس وائرس کا تریاق ہے۔

ڈاکٹر ویرنرے کا کہنا ہے کہ اونٹ مالکان کی اس ویکسین کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی کیونکہ اس مہلک بیماری سے اونٹ دوڑ میں شریک ہونے والے جانوروں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مرس وائرس سے متاثرہ انسانوں کے علاج کے لیے بھی ایسی ایک ویکسین تیار کی جارہی ہے۔