.

وزارت عدل ، وزارت خارجہ اور FBI میں جھوٹ اور بدعنوانی کا دور دورہ ہے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ وزارت انصاف ، وزارت خارجہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) میں وسیع پیمانے پر جھوٹ ، بدعنوانی اور امور کے اِفشا ہونے کا بازار گرم ہے۔ ٹرمپ کی یہ ٹوئیٹ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی کی اُس ٹوئیٹ کے جواب میں سامنے آئی ہے جو کومی نے ایف بی آئی کے نائب ڈائریکٹر اینڈرو میکیبی کی برطرفی کے پس منظر میں کی۔

کومی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "امریکی عوام کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ شریف اور معزّز کون ہے۔ عوام بہت جلد میری بات کو سنیں گے"۔

ادھر امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برنن نے بھی ٹوئیٹر کے ذریعے ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "جب آپ کی سیاسی بدعنوانی اور اخلاقی انحراف تکمیل کو پہنچ جائے گا تو پھر آپ تاریخ کے کچرے دان میں ایک قصور وار شخص کا مقام پالیں گے"۔

ہفتے کے روز امریکی وزیر انصاف جیف سیشنز نے میکیبی کی برطرفی کا اعلان کیا تھا۔

میکیبی کو فارغ کیے جانے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "اینڈرو میکیبی کی چھٹّی ہو گئی ہے۔ یقینا یہ ایف بی آئی میں کام کرنے والے محنتی مرد اور خواتین اہل کاروں کے لیے ایک عظیم دین ہے، یہ جمہوریت کے لیے عظیم دین ہے۔ منافقت کے پیکر جیمز کومی نے جو میکیبی کا سربراہ تھا ایسا ظاہر کیا گویا کہ وہ بہت ایمان دار ہے جب کہ اسے ایف بی آئی میں اعلی منصبوں پر پھیلے جھوٹ اور بدعنوانی کے بارے میں پورا علم تھا"۔

اسی سیاق میں امریکی صدر کے ذاتی وکیل جون ڈوڈ نے امریکی رونامےDaily Beast کو ایک بیان میں بتایا کہ انہیں اسپیشل پراسیکیوٹر روبرٹ ملر کے مشن کے اختتام پذیر ہونے کی امید ہے جو 2016ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ امریکی وزارت انصاف نے 17 مئی 2017ء کو روبرٹ ملر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے واسطے جنرل پراسیکیوٹر مقرر کیا تھا۔

امریکی تحقیقات کا محور صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی مہم اور روس کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی زیر غور آ رہا ہے کہ آیا ٹرمپ نے مئی 2017ء میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو فارغ کر کے اسی معاملے میںFBI کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں ڈالی۔