سیاہ برقع لازم نہیں ،مگر خواتین کے لیے ’’ شائستہ لباس ‘‘ہے: شہزادہ محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سے انٹرویو میں خواتین کے حقو ق اور سعودی خواتین کے روایتی ملبوس برقع (عبایا) کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے ۔

انھوں نے سی بی ایس کی خاتون میزبان نورا او ڈونیل سے انٹرویو میں کہا کہ’’ خواتین کو اپنے شائستہ لباس کے انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ آزادی صرف سیاہ برقع تک محدود نہیں ہونی چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ قوانین بڑے واضح ہیں۔ شریعت میں یہ کہا گیا ہے کہ خواتین کو بھی مردوں کی طرح باوقار لباس پہننا چاہیے لیکن اس لباس کا مطلب سیاہ برقع یا سیاہ سرپوش ہی نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ خواتین پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کس قسم کے شائستہ اور باوقار لباس کا اپنے پہننے کے لیے انتخاب کرتی ہیں‘‘۔

سی بی ایس کی خاتون میزبان نے شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب کو دوبارہ اعتدال پسند اسلام کی راہ پر ڈالنے سے متعلق ان کے ایک سابقہ بیان کی وضاحت کے لیے کہا تھا۔

انھوں نے کہا:’’ ہمارے یہاں انتہا پسند ہیں جو دونوں صنفوں کے آپس میں گھلنے ملنے کی ممانعت کرتے ہیں مگر وہ تنہائی میں ایک مرد اور عورت کے درمیان ملاقات اور کام کی جگہوں پر دونوں صنفوں کے ملنے جلنے میں تمیز نہیں کرتے ہیں ۔ان کے بہت سے ایسے نظریات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور کے طرزِ زندگی سے متصادم ہیں۔اسلام کی حقیقی مثال اور حقیقی نمونہ تویہی ( قرونِ اولیٰ کا اسلام) ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں