ولادی میر پوتین چوتھی مدت ِ صدارت کے لیے 74 فی صد ووٹ لے کر کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے ۔سرکاری ایگزٹ پول کے مطابق صدر ولادی میر پوتین کی کامیابی یقینی ہے اور وہ 73.9 فی صد ووٹ لے کر چوتھی مدت کے لیے صدر منتخب ہوجائیں گے۔

روس بھر میں 1200 پولنگ اسٹیشنوں کے جائزے کے بعد ایگزٹ پول کے یہ نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ان کے مطابق صدر پوتین کے حریف کمیونسٹ امیدوار پیول گرودینن 11 فی صد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ واضح رہے کہ 37 فی صد ووٹروں نے یہ بتانے سے انکار کیا تھا کہ انھوں نے کس صدارتی امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔

ولادی میر پوتین کے مد مقابل کل سات امیدوار تھے لیکن ان کے سخت ناقد الیکسئی نوالنی کو قانونی وجوہ کی بنا پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔انھوں نے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں او ر دھاندلیوں کا الزام عاید کیا ہے۔

روس میں قریباً 10 کروڑ 70 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے۔روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 60 فی صد رہی ہے۔حزب اختلاف کے حامی اخبار نوایا گزٹا نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ طلبہ ،سرکاری ملازمین اور نجی کمپنیوں ، اداروں میں کام کرنے والے افراد کو صدر پوتین کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

الیکسئی نوالنی کے وکیل ایفان ژادنوف کا کہنا ہے کہ صداتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی حقیقی شرح 55 فی صد رہی ہے۔ان کی حزب اختلاف کی تحریک اور غیر سرکاری الیکشن مانیٹر گولوس نے کہا ہے کہ ولادی میر پوتین کے حامیوں کو بسوں میں لاد لاد کر پولنگ مراکز پر لایا جارہا تھا اور کئی افراد نے دو دو مرتبہ ووٹ ڈالا ہے۔اس کے علاوہ صدر کے حامیوں کی جانب سے خود ہی مہریں لگا لگا کر بیلٹ باکس بھرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

لیکن روس کے الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انتخابی نگراں بعض اوقات جو کچھ دیکھتے ہیں ،اس کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن غیر حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں