.

سعودی عرب اور امریکا کے تاریخی تعلقات 8 دہائیوں پر مشتمل ہیں: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات کو سراہتے ہوئے انہیں "ماضی میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں اعلی ترین سطح پر" قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ " 8 دہائیوں پر مشتمل سعودی امریکی تعلقات تاریخی اور تزویراتی نوعیت کے ہیں۔ یہ تعلقات متبادل احترام اور متبادل مفادات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی بحرانات کے حوالے سے مستقل رابطہ کاری اور مشاورت پر مبنی ہیں"۔

عادل الجبیر کے مطابق "سعودی ولی عہد کا امریکا کا حالیہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تزویراتی اور تاریخی شراکت داری کو مضبوط بنائے گا۔ اس کے نتیجے میں مشترکہ تعاون کے میدان میں نئے امکانات سامنے آئیں گے جن کا تعلق دونوں دوست ملکوں اور ان کے عوام کی منفعت سے ہے"۔

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا تھا کہ سعودی ولی عہد کا امریکا کا دورہ تین ہفتوں تک جاری رہے گا۔ منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وہ مختلف شہروں کا دورہ کریں گے۔

دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پیر کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا جانے والا جوہری معاہدہ "ناقص" ہے۔ الجبیر کا کہنا تھا کہ "ہم کئی برس سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایران کے حوالے سے زیادہ سخت پالیسیاں اپنائی جائیں۔ ہم ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے خطّے میں ایران کی گھٹیا سرگرمیوں پر روک لگائی جا سکے"۔

سعودی وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے یمن میں حوثیوں کی مسلح جماعت اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے لیے سپورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔