.

فرانس: انتخابی مہم میں قذافی سے فنڈنگ، سابق صدر سارکوزی حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں سابق صدر نکولا سارکوزی کو منگل کے روز پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سابق صدر سے 2007ء میں اپنی انتخابی مہم کے لیے مالی رقم لینے کے الزام کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ سارکوزی مذکورہ صدارتی انتخابات میں جیت گئے تھے۔

تحقیقات سے قریب ایک ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ 2007ء سے 2012ء کے درمیان فرانس کے صدر رہنے والے ساکورزی سے پہلی مرتبہ شہادتی بیان لیا جائے گا۔ سال 2013ء میں تحقیقات کے آغاز کے بعد یہ پہلا مواقع ہے جب تحقیق کار سارکوزی کا بیان لیں گے۔

سارکوزی کی حراست کی مدت 48 گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد انہیں عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے گا تا کہ تحقیقات کے سلسلے میں زیادہ لمبے عرصے کے لیے سارکوزی کی حراست کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔

ایک فرانسیسی ویب سائٹ نے 2012ء میں ایک دستاویز جاری کی تھی۔ یہ دستاویز سارکوزی کی انتخابی مہم کے لیے لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کی جانب سے کی جانے والی فنڈنگ کے بارے میں تھی۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں اس حوالے سے پائے جانے والے شبہات بڑی حد تک یقین میں تبدیل ہو گئے۔

سارکوزی اور ان کے سابق سینئر اہل کار نے انتخابی مہم کے سلسلے میں کروڑوں یورو کی فنڈنگ سے متعلق معاملے میں کسی بھی غلطی کے ارتکاب کا انکار کیا۔

سال 2016ء میں یہ معاملہ اس وقت خبروں میں نمایاں بن کر ابھرا جب ایک لبنانی نژاد فرانسیسی کاروباری شخصیت زیاد تقی الدین نے فرانس کے ایک تفتتیشی جج کو بتایا ہے کہ کرنل قذافی اور ان کے ایک بیٹے نے غیر قانونی طور پر نکولا سارکوزی کو پانچ کرورڑ یورو سے زیادہ رقم منتقل کی تھی اور ان کے پاس اس کے تحریری ثبوت موجود ہیں۔

تحقیق کار اس وقت ان دعوؤں کی جانچ کر رہے ہیں جن میں کہا گیا کہ قذافی حکومت نے سارکوزی کو ان کی صدارتی مہم کے لیے خفیہ طور پر 5 کروڑ یورو پہنچائے تھے۔ یہ رقم اس وقت کی انتخابی مہم کے لیے مقرر کردہ رقم کی قانونی حد 2.1 کروڑ ڈالر کے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔

علاوزہ ازیں اس غیر قانونی فنڈنگ نے فرانس میں غیر ملکی فنڈنگ اور انتخابی مہم کی فنڈنگ کا ذریعہ اعلان کرنے سے متعلق قوانین کی بھی خلاف ورزی کی تھی۔

نکولا سارکوزی کا قذافی کی حکومت کے ساتھ پیچیدہ نوعیت کا تعلق تھا۔ صدر بننے کے بعد سارکوزی نے قذافی کو فرانس کے سرکاری دورے پر بلایا اور ان کا بھرپور خیر مقدم کیا ۔

تاہم دوسری جانب سارکوزی نے فرانس کو نیٹو اتحاد کے ان ممالک میں پیش پیش رکھا جنہوں نے 2011ء میں قذافی کی فورسز پر کاری ضربیں لگائیں اور ان کی حکومت کے سقوط کے لیے اپوزیشن کی مدد کی۔