.

یورپی پارلیمنٹ کا ایک بڑا گروپ ایرانی مظاہرین کا حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 197 ارکان نے ایک مشترکہ بیان میں "جمہوری تبدیلی کے واسطے ایرانیوں کی تحریک" کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن جیرارڈ ڈیپریز نے مذکورہ بیان پڑھ کر سنایا جو یورپی پارلیمنٹ میں "فرینڈز آف فِری ایران" گروپ کے سربراہ بھی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ "ایرانی عوام بالخصوص نئی نسل اور خواتین اس شدت پسند نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور اب وہ ایک جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "28 دسمبر کو شروع ہو کر دو ہفتوں تک ایران کے تمام صوبوں اور 140 سے زیادہ شہروں میں جاری رہنے والی احتجاجی تحریک کے دوران عوام نے 'آمر مردہ باد' ، 'خمینی مردہ باد' اور 'روحانی مردہ باد' کے نعرے لگائے۔ خواتین نے ان احتجاجی مظاہروں میں سرگرم کردار ادا کیا تاہم حکومت نے تشدد کے ذریعے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جب کہ دوران حراست تشدد سے 14 مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے"۔

مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی۔ ارکان نے یورپی یونین اور یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مؤثر اقدامات اور مطلوبہ فیصلے عمل میں لائیں تا کہ ایرانی حکومت سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ارکان نے بیرون ملک جلا وطنی گزارنے والی اپوزیشن شخصیات کے خلاف ایرانی حکومت کی میڈیا مہم پر بھی سخت تنقید کی۔

ارکان نے ایران کے حوالے سے یورپی یونین کی حالیہ پالیسی پر بھی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران میں انسانی حقوق کے حوالے سے کسی قسم کی سودے بازی ممکن نہیں۔ ارکان کے مطابق ایران کے ساتھ سیاسی یا اقتصادی تعلقات کے حوالے سے کوئی بھی توسیع لازمی طور پر انسانی حقوق ، خواتین کے حقوق اور سزائے موت پر عمل درامد روک دینے کے حوالے سے واضح پیش رفت کے ساتھ مشروط ہونا چاہیے۔