.

کویت میں بڑی عمر کی بھارتی گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت نے گھریلو ملازماؤں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حال ہی میں اقدامات کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کی ابھی نوبت نہیں آئی ہے اور بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی عمر کی گھریلو ملازمہ پر تشدد کا واقعہ سامنے آ گیا ہے۔

ایک بائیس سالہ تارکِ وطن بھارتی نوجوان نے اپنی شکایت میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ماں کو ایک مقامی شخص نے زیر حراست رکھا ہے اور اس کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

اس مدعی کی بہن ہونے کی دعوے دار ایک اور عورت نے اس دعوے کی صحت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی ماں کے ساتھ ایسا کچھ واقعہ رو نما نہیں ہوا ہے۔

کویتی اخبار الانبا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اس بھارتی کی شکایت ملنے پر اس ضعیف العمر خاتون کو اسپتال منتقل کیا تھا اور ڈاکٹروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس عورت کی حالت تسلی بخش اور بہتر ہے۔

یہ معلوم ہوا ہے کہ مدعا علیہ کویتی اس بڑی عمر کی عورت کا کفیل نہیں تھا ۔اس لیے اس تارکِ وطن کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں کویت شہر سے ایک فلپائنی گھریلو ملازمہ کی فریزر میں منجمد کی گئی لاش بھی برآمد ہوئی تھی۔اس کو اس کے آجر میاں بیوی نے ایک سال پہلے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا تھا اور اس کے بعد اس کی لاش فریزر میں ڈال کر ملک سے فرار ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد فلپائن اور کویت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور فلپائنی صدر نے کویت میں کا م کرنے والے تارکینِ وطن کو واپس بلا لیا تھا اور اس خلیجی ریاست میں مزید فلپائنی کارکنوں کو بھیجنے پر پابندی عاید کردی تھی۔