.

امریکا کا ایران سے جوہری مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں متبادل منصوبہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنے تین یورپی اتحادیوں برطانیہ ،جرمنی اور فرانس سے ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے متعلق تعمیری بات چیت کی ہے لیکن اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ ناکام ہوجاتا ہے تو پھر امریکا نے ایران کے خلاف ایک متبادل منصوبے پر بھی کام شروع کردیا ہے۔یہ بات امریکا کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے ایک بیان میں بتائی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 جنوری کو یورپی طاقتوں کو ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے میں موجود اسقام کو دو ر کرنے کے لیے الٹی میٹم دیا تھا اور خبر دار کیا تھا کہ اگر وہ اس سے متفق نہیں ہوتے تو پھر امریکا ایران کے خلاف عاید پابندیوں میں کی گئی نرمی میں توسیع سے انکار کردے گا ۔اگر صدر ٹرمپ اس کی منظوری نہیں دیتے تو 12 مئی کے بعد ایران پر دوبارہ امریکی پابندیاں بحال ہوجائیں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ ڈائریکٹر برائن ہُک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم نے ایک ضمنی سمجھوتے کے بارے میں یورپی اتحادیوں سے تعمیری بات چیت کی ہے لیکن میں یہ پیشین گوئی نہیں کرسکتا کہ آیا ہمارا ان کے ساتھ سمجھوتا طے پاجائے گا یا نہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام رہتے ہیں اور کوئی نیا سمجھوتا طے نہیں پاتا ہے تو پھر ہم اس صورت میں ایک متبادل ہنگامی منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ہم ایک طرح سے بیک وقت دو ٹریک پر چل رہے ہیں۔

مسٹر ہُک نے گذشتہ جمعرات کو برلن میں برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کے عہدے داروں سے بات چیت کی تھی اور اس کے بعد جمعہ کو اس موضوع پر ویانا میں سابق صدر براک اوباما کے دور حکومت میں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے ذمے دار گروپ سے وسیع تر بات چیت کی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ویانا میں امریکا نے ایران سے براہ راست بھی بات چیت کی ہے اور اس سے اپنے شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بھی اس دوطرفہ بات چیت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کا تعلق ایرانی عدلیہ سے ہے اور وہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

اس ایرانی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’ہم انسانی بنیادوں پر جو کچھ ممکن ہوا ، وہ کریں گے‘‘۔انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں امریکا سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی جیلوں میں بند ایرانیوں کو رہا کرے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے پر اس ماہ کے اوائل میں اومانی وزیر خارجہ کے دورۂ ایران کے موقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں ( اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی ) کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد جولائی 2015ء میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا اور ا س کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے اتفاق کیا تھا،اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیاں مکمل یا جزوی طور پر ختم یا نرم کر دی گئی تھیں۔

تین اسقام

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک اس معاہدے میں تین اسقام پائے جاتے ہیں۔اوّل ،اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔دوم ،ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنےکے لیے شرائط ، جن کے تحت بین الاقوامی معائنہ کار ان تنصیبات کا معائنہ کرسکتے ہیں۔سوم،اس کی ’’سن سیٹ‘‘ شقیں ،جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر عاید تحدیدات کی مدت دس سال کے بعد ختم ہوجائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان تینوں شقوں پر نظرثانی کی جائے اور انھیں بہتر بنانے کی صورت ہی میں امریکا اس معاہدے میں برقرار رہ سکتا ہے۔

تاہم مسٹر ہُک نے اعتراف کیا ہے کہ ایران ٹیکنیکل طور پر اس سمجھوتے کی پاسداری کررہا ہے مگر انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ ایران اس معاہدے کے دیباچے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے اور اس میں اس توقع کا اظہار کیا گیا تھا کہ ’’ایران سمجھوتے کی مکمل پاسداری کرے گا اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی میں مثبت کردار ادا کرے گا‘‘۔

بعض تجزیہ کار اس موقف کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس توقع کا اظہار دراصل ایران کی جانب سے کوئی پختہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ اس پر من وعن عمل درآمد کرے گا۔

ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کو جوہری سمجھوتے کے نتیجے میں مکمل ثمرات حاصل نہیں ہوئے ہیں کیونکہ امریکا کی ممکنہ پابندیوں کے خوف سے بڑے بنک ایران میں کام کے لیے آنے سے کترا رہے ہیں لیکن مسٹر ہُک نے ایران کے اس موقف کو مسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی غیر واضح معیشت کی وجہ سے سرمایہ کار نہیں آرہے ہیں کیونکہ انھیں یہ یقین ہی نہیں کہ وہ ایران میں کاروبار کے لیے سرمایہ کاری کریں گے یا دہشت گردی کی حمایت کے لیے ۔انھوں نے کہا کہ ایران کو دہشت گردی کی حمایت ترک کرنے ،اپنے بنک کاری نظام اور کاروباری شعبوں کو ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے ایران کی اس تشویش کو بھی مسترد کردیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مغرب کی طیارہ ساز کمپنیوں کو ایران کو طیاروں کی فروخت کے لیے لائسنس کے اجرا کی منظوری نہیں دی ہے۔

’’ میں نے انھیں ( ایرانیوں کو ) کو بتا دیا ہے کہ آپ تجارتی پروازوں کو شام سمیت مشرق وسطیٰ بھر میں دہشت گردوں اور اسلحے کی حمل ونقل کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہو ۔اس لیے ہم آپ کو اپنی قومی سلامتی کی قیمت پر لائسنس جاری نہیں کریں گے‘‘۔ مسٹر ہُک کا کہنا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ ڈائریکٹر برائن ہُک۔ فائل تصویر
امریکی محکمہ خارجہ کے پالیسی پلاننگ ڈائریکٹر برائن ہُک۔ فائل تصویر