.

یمنی ماؤں کی حوثی ملیشیا کی جیلوں میں قید اپنے بیٹوں کی رہائی کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں یرغمال افراد کی ماؤں کی تنظیم نے ’’عرب یومِ مادر‘‘ کے موقع پر مآرب میں ایک تقریب کا اہتمام کیا ہے ۔اس میں حوثی ملیشیا کے زیر انتظام جیلوں میں قید یمنی نوجوانوں کی ماؤں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا اور یہ تقریب ان ہی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔انھوں نے اس موقع سے حوثی ملیشیا سے اپنے بیٹوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس تقریب کا عنوان ’’ ہمارے بیٹوں کی رہائی میں ہماری خوشی ہے‘‘ تھا۔اس موقع پر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ماں کے دن کے موقع پر ایک یمنی ماں کی خوشی کس امر میں پنہاں ہے۔

ان ماؤں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا کو ان کے بیٹوں کی رہائی پر مجبور کریں۔

حوثی ملیشیا نے ہزاروں نوجوانوں ، انسانی حقوق کے کارکنان ،صحافیوں ، سیاست دانوں اور طلبہ کو اغوا کے بعد جیلوں میں قید کررکھا ہے۔ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ حوثیوں کی چیرہ دستیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق حوثی جنگجو ان قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انھیں انتہائی ناگفتہ بہ غیر انسانی صورت حال میں رکھا جارہا ہے۔

مذکورہ تقریب میں بعض ماؤں نے تقاریر بھی کیں اور انھوں نے اپنے بیٹوں کے لاپتا ہوجانے یا پھر حوثیوں کی جیلوں میں ڈالے جانے کے بعد کے تجربات بیان کیے اور اپنی مشکلات اور حوثیوں کے زیر اہتمام جیلوں میں اپنے بیٹوں پر اذیتوں کے بارے میں بتایا۔

حوثی ملیشیا کی ایک جیل سے بھاگ جانے میں کامیاب ہونے والے ا براہیم محی الدین نے بھی اس تقریب میں شرکت کی ۔انھوں نے جیل میں اپنے تجربے اور اس صورت حال میں اپنی والدہ سے ملاقات کے محسوسات پر مبنی اشعار سنائے۔

اس تقریب میں شریک خواتین وحضرات نے بعد میں مآرب میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے بیٹوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اس سلسلے میں عالمی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے وہ حوثی ملیشیا پر بلاجواز حراست میں رکھے گئے یمنیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں ۔