.

امریکا کی تہران رجیم کے ایما پر 9 ایرانیوں پر عالمی سائبر حملوں کی فرد الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے نو ایرانیوں اور ایک ایرانی کمپنی پر سیکڑوں امریکی اور بین الاقومی جامعات ، دسیوں کمپنیوں اور امریکی حکومت کے بعض اداروں کی ویب گاہوں اور ای میلز کو تہران حکومت کے ایما پر ہیک کرنے پر فرد الزام عاید کردی ہے۔

امریکا کے محکمہ انصاف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان ایرانیوں نے 144 امریکی جامعات ، 21 ممالک کی 176 بین الاقوامی جامعات کی ویب گاہوں پر حملے کر کے 31 ٹیرا بائٹس سے زیادہ تعلیمی ڈیٹا ہیک کیا تھا اور انٹیلیکیچوئل پراپرٹی کو چرا نے کے لیے سائبر حملے کیے تھے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ اس نے ان تمام الزام علیہان اور ایک ایرانی ادارے مبنیٰ انسٹی ٹیوٹ پر پابندی لگادی ہے۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے اس ادارے کو معلومات چُرا کر ایران کی تحقیقاتی تنظیموں کو فراہم کرنے میں مدد دینے کا الزام عاید کیا ہے۔

انصاف کے بھگوڑے

امریکا کے ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزنٹین نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ مدعا علیہان اب انصاف کے بھگوڑے ہیں ۔اب اگر یہ افراد ایران سے باہر سفر کرتے ہیں تو انھیں ایک سو سے زیادہ ممالک سے نکالا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں یہ چوتھا موقع ہے جب امریکا میں ایرانیوں کے خلاف سائبر حملوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اوباما انتظامیہ کے دور میں ایسا کم ہی ہوتا تھا۔

ایرانیوں نے ایک لاکھ سے زیادہ ای میل اکاؤنٹس کو اپنے سائبر حملوں میں نشانہ بنایا تھا اور ان میں سے آٹھ ہزار پروفیسروں کے ای میل سے ڈیٹا کو ہیک کر لیا تھا ۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ ریاست کی شہ پر کی جانے والی سب سے بڑی سازش تھی ۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ان ہیکروں نے امریکا کے محکمہ محنت ، فیڈرل انرجی ریگولیٹری کمیشن اور اقوام متحدہ کی ویب گاہوں یا ای میلز پر حملے کیے تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکی ا نتظامیہ نے روسی حکومت پر گذشتہ دو سال کے دوران میں سائبر حملوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا تھا۔امریکا نے نومبر 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مداخلت اور دوسرے سائبر حملوں کے الزام میں 19 روسی شہریوں اور پانچ گروپوں پر نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

اس سے پہلے اوباما انتظامیہ نے 2016ء میں سات ایرانیوں پر دس بارہ امریکی بنکوں اور نیویارک ڈیم پر سائبر حملوں کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔ان ہیکروں پر بھی ایرانی حکومت کے ایما پر کام کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جن ایرانیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا ، ان میں بہزاد مصری بھی شامل ہیں ۔ وہ ’’ سقوط وحشت‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ان پر 2017ء میں بھی کیبل ٹی وی نیٹ ورک ایچ بی او کو ہیک کرنے پر فرد الزام عاید کی گئی تھی۔