.

حوثیوں نے کروڑوں ڈالر کے تیل کی فروخت کا سمجھوتہ کیا ہے: دستاویزی انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سامنے آنے والی ایک سرکاری دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ حوثی ملیشیا نے خام تیل کی ایک بڑی مقدار کی فروخت کی منظوری دی ہے۔ یہ تیل صافر آئل فیلڈ سے لے کر ملک کے مغرب میں واقع علاقے راس عیسی تک پھیلی ہوئی پائپ لائنوں میں موجود ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ علاقہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے۔ دستاویز کے مطابق تیل کی مقدار 6 لاکھ بیرل کے قریب ہے۔ یہ تیل 70 ڈالر فی بیرل کے عالمی نرخ کے مطابق ایگری کلچرل کوآپریٹو یونین کو فروخت کیا جائے گا۔ اس سمجھوتے سے حوثی ملیشیا کو 4.2 کروڑ ڈالر کی بڑی آمدنی حاصل ہو گی۔

ادھر یمن میں آئینی حکومت کی وزارت تیل نے جمعرات کے روز ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے ذخیرہ کیے گئے یا پیدا کیے گئے خام تیل کو ہر گز نہ خریدا جائے بصورت دیگر تمام تر ذمّے داری مخالفت کرنے والے پر عائد ہو گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ راس عیسی میں ذخیرہ کیے گئے خام تیل کی فروخت یمنی عوام کے اثاثوں پر کھلا حملہ ہے۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ پائپ لائنوں سے تمام تر خام تیل نکال لینے سے یہ لائنیں "خراب اور کھوکھلی" ہو جائیں گی۔ اس طرح انسانوں اور ماحولیات کو خطرناک حد تک نقصان پہنچے گا۔حوثی ملیشیا اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ذخیرہ کیے گئے تیل کو فروخت کرنے کی کوشش کر چکی ہے تاہم ہر مرتبہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

یمن کی آئینی حکومت نے کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں ایک بڑی ماحولیاتی اور انسانی آفت سے خبردار کیا تھا۔ خط میں اقوام متحدہ سے مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ یمن کے مغرب میں الحدیدہ کے ساحل کے مقابل سمندر میں ایک آئل ٹینکر سے رِسنے والے تیل کو بحر احمر میں جانے سے روکا جا سکے۔

یہ آئل ٹینکر کئی برس سے مرمت اور دیکھ بھال کے بغیر ہی ساحل پر موجود ہے۔ مذکورہ ضخیم آئل ٹینکر "صافر" کا وزن تقریبا 4.09 لاکھ میٹرک ٹن ہے اور یہ اس وقت حوثیوں کے زیر قبضہ راس عیسی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہے۔ یہ بندرگاہ بحر احمر کے ساحل پر واقع الحدیدہ شہر کے شمال میں تقریبا 60 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ سابقہ معلومات کے مطابق صافر آئل ٹینکر میں 1.4 لاکھ بیرل منجمد تیل موجود ہے۔