.

سعودی عرب کی پہلی تصدیق شدہ خاتو ن باکسر کا نام گینز ورلڈ ریکارڈز میں کیسے شامل ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی 28 سالہ رشا الخمیس کو ملک کی پہلی تصدیق شدہ باکسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے دو اور سنگ میل عبور کیے ہیں۔ انھوں نے سات بڑی چوٹیوں میں سے دو کو سر کیا ہے اور وہاں اپنی ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ فٹ بال میچ کھیلا ہے۔

رشا الخمیس کا تعلق ایک ثقافتی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ ان کے دادا مرحوم عبداللہ بن خمیس سعودی عرب کے ایک معروف لکھاری تھے۔انھیں خود کھیل کے علاوہ جغرافیے اور فطرت سے لگاؤ ہے۔انھوں نے العربیہ کو اپنے کامیابی کے سفر کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 2011ء میں پہلی مرتبہ باکسنگ کے دستانے پہنے تھے ۔ تب وہ امریکا کی جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔اس وقت سے ہی انھیں اس کھیل کا شوق پیدا ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ میں دوسال تک ہفتے میں دو سے تین مرتبہ تربیت کے لیے باکسنگ کلب میں جاتی رہی تھی۔مجھے اس کھیل سے محبت ہو گئی تھی ۔ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا اور فائدہ اٹھایا ہے۔اس سے میرے کردار کی تعمیر ہوئی ، رفتار اور موثر کارکردگی کی مہارتیں سیکھیں‘‘۔

ان کے بہ قول :’’ باکسنگ ایک دلچسپ اور خوب صورت کھیل ہے۔اس سے فرد میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور کسی بھی منفی توانائی کا خاتمہ ہوتا ہے، ذہن کو جلا ملتی ہیں کیونکہ ایک باکسر کو بڑی تیزی سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن اس سب کچھ کے حصول کے ایک مضبوط قوتِ ارادی کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

تصدیقی سر ٹیفکیٹ کے لیے سفر

رشا الخمیس نے کیلی فورنیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی اور پبلک پالیسی مینجمنٹ میں ماسٹرز کیا تھا اور ان کے مقالے کا موضوع سعودی عرب میں خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات تھا۔انھوں نے امریکا سے وطن واپسی پر ایک تقریب میں سعودی باکسنگ فیڈریشن کے صدر سے ملاقات کی اور انھیں ملک میں خواتین کی باکسنگ کی صلاحیتوں کو مہمیز دینے کے لیے بعض تجاویز پیش کی تھیں۔

فیڈریشن کے صدر نے انھیں بتایا کہ انھیں خواتین کوچ اور ایتھلیٹس کی ضرورت ہے ۔اس کے بعد انھوں نے سعودی باکسنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام چار ماہ تک ایک تربیتی کیمپ میں شرکت کی اور سابقہ تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی مہارتیں سیکھیں ۔

رشا نے بتایا کہ ’’ میں نے باکسنگ کے اسرار و رموز کیوبا مکتب فکر کے مطابق سیکھے اور کامیابی سے یہ تربیت مکمل کی۔اس کے بعد مجھے سرکاری طور پر باکسنگ ٹرینر کا سرٹیکیٹ جاری کردیا گیا تھا‘‘۔

وہ اس وقت شاہ سعود یونیورسٹی میں خواتین باکسروں کو تربیت دے رہی ہیں ۔ان کی کلاس میں زیر تر بیت باکسروں کی تعداد 160 ہے اور ان سب کا جوش جذبہ دیدنی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ میرا خواب یہ ہے کوئی سعودی خاتون اولمپکس مقابلوں میں طلائی تمغا جیتے ‘‘۔

رشا الخمیس نے سعودی عرب میں خواتین باکسروں کے لیے ہی یہ کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ 2017ء میں انھوں نے گیارہ اور سعودی خواتین کے ساتھ مل کر مراکش میں اطلس پہاڑ کی چوٹی کو سر کیا تھا۔ اسی سال جون میں انھوں نے ایک اور معرکہ سر کیا اور دنیا کے بلند ترین کھیل کے میدان پر فٹ بال کا میچ کھیلا تھا ۔انھوں نے کلی مانجرو کی چوٹی پر یہ میچ کھیلا تھا ۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی 5714 میٹر ہے۔اس پر ان کا نام گینز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا گیاتھا۔

انھوں نے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی 30 خواتین کے ساتھ مل کر ایک خیراتی مقصد کے لیے ’’ مساوی کھیل کا میدان ‘‘ کے عنوان سے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔