امریکا کو مطلوب پاسداران انقلاب کا 9 رکنی سائبر گینگ کا تعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی حکومت نے نو ایرانیوں اور ایک ایرانی کمپنی پر سیکڑوں امریکی اور بین الاقومی جامعات ، دسیوں کمپنیوں اور امریکی حکومت کے بعض اداروں کی ویب سائیٹ اور ای میلز کو تہران حکومت کے ایما پر ہیک کرنے پر فرد الزام عاید کردی ہے۔

امریکا کے محکمہ انصاف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان ایرانیوں نے 144 امریکی جامعات ، 21 ممالک کی 176 بین الاقوامی جامعات کی ویب گاہوں پر حملے کر کے 31 ٹیرا بائٹس سے زیادہ تعلیمی ڈیٹا ہیک کیا تھا اور انٹیلیکیچوئل پراپرٹی کو چرا نے کے لیے سائبر حملے کیے تھے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ اس نے ان تمام الزام علیہان اور ایک ایرانی ادارے مبنیٰ انسٹی ٹیوٹ پر پابندی لگادی ہے۔ امریکی پراسیکیوٹرز نے اس ادارے کو معلومات چُرا کر ایران کی تحقیقاتی تنظیموں کو فراہم کرنے میں مدد دینے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف بی آئی‘ کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب کےنو رکنی سائبر گینگ کی فہرست کے بعد اس گروپ پر فوری طورپر پابندی عاید کی جا ری ہیں۔

امریکی نائب وزیرانصاف روڈ رونسٹائن نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سائبر حملوں میں ملوث تمام ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ قریبا ایک سو ممالک کی طرف سے ان کی انٹرپول کی مدد سے گرفتاری کی درخواستیں دی گئی ہیں تاہم ان کی ایران میں موجودگی گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس گروپ کو ایرانی حکومت کی جانب سے براہ راست سائبر جرائم کی ہدایت ملتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کررہا ہے اور انہیں گرفتاریوں سے بچانے کے لیے بیرون ملک سفر سے روکاجا رہا ہے۔

امریکی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق ایرانی سائبر مافیا نے دنیا بھر میں جامعات کے قریبا ایک لاکھ اساتذہ کی ای میلز کو ہیک کیا اور آٹھ ہزار ای میل تک براہ راست رسائی حاصل کرکے ان کا ڈیٹا چوری کیا گیا۔

امریکی وزارت انصاف اور وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ ’ایف بی آئی‘ کی طرف سے ایرانی اشتہاریوں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس پر الزام ہے کہ وہ مجموعی طورپر 31 ٹیرا بائیٹ ڈیٹا چوری کرنے میں ملوث ہے۔یہ معلومات نہ صرف امریکی اداروں اور شخصیات سے متعلق ہیں بلکہ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں سے بھی سائبر حملوں میں معلومات چوری گئی۔ یہ تمام معلومات چوری کرنے کے بعد پاسداران انقلاب کو فراہم کی گئی تھیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے اس سائبر گروپ نےامریکا میں 144 جامعات کا کمپیوٹر ڈیٹا ہیک کیا ۔ اس کے علاوہ 21 ملکوں کی 176 جامعات ان کا نشانہ بنی جن میں آسٹریلیا، کینیدا، چین، ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، ملائیشیا، ہالینڈ،ناروے، پولینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا، اسپین، سویڈن،سوئٹرزلینڈ، ترکی اور برطانیہ شامل ہیں۔

ایران کے اس سائبر حملہ آور گروپ نے دنیا بھر کی جامعات کےقریبا ایک لاکھ اساتذہ کی ای میل، امریکا میں پبلک سیکٹر کی36 کمپنیوں، یورپ کی 11 فرمو اور امریکا میں پانچ حکومتی ایجنسیوں کا کمپیوٹر ڈیٹا چوری کیا گیا یا اسےہیک کیا گیا۔

ملزمان کے نام

امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں سائبر حملوں میں ملوث ایرانیوں کی شناخت غلام رضا رفعت نژاد، احسان محمد [مبنا انسٹیٹیوٹ کے بانی] سید علی میر کریمی، مصطفیٰ صادقی، سجاد طھماسبی، عبداللہ کریما، ابو ذر گوہری مقدم، روزبہ صباحی اور محمد رضا صباحی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے ان میں 30 سالہ بہزاد مصری کا نام بھی شامل ہے جس پر ’HBO‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے کمپیوٹر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے اور آن لائن گیم Thrones". کو ہیک کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں