قطر نے نجی کمپنیوں کو دہشت گرد گروپوں کو فنڈز فراہم کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

قطر نے دہشت گردی کی معاونت کرنے والے 19 افراد اور آٹھ اداروں پر مشتمل ایک فہرست جاری کی ہے۔ ان میں گیارہ افراد اور چھے کمپنیاں قطری ہیں۔اس فہرست کے اجراء سے دوحہ کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی کے بارے میں سوالات نے جنم لیا ہے۔

بالعموم ممالک کی جانب سے جاری کردہ ایسی فہرستوں میں ایسے مفروروں کے نام شامل ہوتے ہیں جو ان ممالک سے بیرون ملک بھاگ چکے ہوتے ہیں اور ان کا اتا پتا معلوم نہیں ہوتا۔پھر ان کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے اور اگر وہ ملک کے اندر ہی کہیں موجود ہوں تو ان کا سراغ لگا کر انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے لیکن قطر نے جمعرات کو اس فہرست کے اجراء کے بعد سے کوئی اقدام نہیں کیا۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق قطری حکومت کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں کچھ کمپنیوں کو سرکاری طور پر دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس فہرست میں ایسے ادارے بھی شامل ہیں جن کا قطر کے امداد ی یا خیراتی اداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ماضی میں ان کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو فنڈز منتقل کیے جاتے رہے ہیں۔

قطر کی اس نئی فہرست میں ایسے ادارے اور کمپنیاں شامل ہیں جو گھریلو تزئین و آرائش ، فرنیچر ، ٹیلی فون ، کرائے پر کاروں کا کاروبار کرتی ہیں۔ان میں الانصار موبائلز ، کار رینٹل او ر رئیل اسٹیٹ ،طفطناز برائے تجارت اور کنٹریکٹنگ ، جبل عمر برائے ٹریڈ اینڈ کنٹریکٹنگ ، خبرات برائے ٹریڈ اینڈ کنٹریکٹنگ ، الاتحاد فرنیچر اور ڈیکور ۔

آن لائن سرچ سے پتا چلتا ہے کہ قطر نے ان کمپنیوں کی ویب سائٹس کو بھی بلاک نہیں کیا اور دم ِ تحریر ان کے فون نمبرز چل رہے تھے۔قطر کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق الضحیبیہ امبریلا اور ٹینٹس قطری شہریوں کے مکانوں کے لیے رئیل اسٹیٹ کا کام کرتی ہے۔

یہ کمپنی 2011ء میں قائم کی گئی تھی ۔یہ معروف صارفین کے لیے کار پارک کے لیے چھتریاں بناتی ہے ۔ان میں سب سے نمایاں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک ہے ،قطر انشورنس کمپنی ، قطر میوزیم اتھارٹی ، کیو جیٹ ، الفردان اور دانات قطر بھی اس کے صارفین میں شامل ہیں ۔ ایک اور کمپنی خبرات ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ بھی 2011ء میں قائم کی گئی تھی۔ یہ مکانوں کی تعمیر اور تعمیرات کا کام کرتی ہے۔اس کے علاوہ وہ گھروں کی تزئین و آرائش کا کام کرتی ہے۔خبرات نے متعدد قطری شہریوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے ، جن کے اس نے مکانات تعمیر کیے ہیں ۔تاہم ان تمام کمپنیوں کی ویب سائٹس پر ان کے مالکان کے نام نہیں دیے گئے ہیں۔

دوحہ حکومت کی دہشت گردوں کی فہرست میں متعدد ایسے قطریوں کے نام بھی شامل ہیں جن کا دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کرنے والے اداروں یا فرموں سے براہ راست تعلق رہا ہے۔

قطر کی جاری کردہ اس فہرست میں شامل بعض افراد اور اداروں کے نام گروپ چار کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل تھے ۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے گذشتہ سال یہ فہرست جاری کی تھی اور قطر سے اس میں شامل افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

بعض کے نام امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2015ء میں جاری کردہ ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ان میں ایک نام سعد الکعبی کا ہے ۔ان پر القاعدہ اور شام میں النصرۃ محاذ کو جنگی سرگرمیوں کے رقوم مہیا کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔وہ النصرۃ محاذ کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے تاوان وصول کرنے کے لیے دلال کے طور پر کام کر تے رہے تھے۔

قطر نے القاعدہ کے ایک سابق مالی معاون عبداللطیف الکواری کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔انھیں 2015ء میں القاعدہ سے تعلق کے الزام میں بلیک لسٹ قرار دیا گیا تھا ۔انھوں نے 2012ء میں القاعدہ کے سہولت کار کے طور پر کام کیا تھا اور قطر میں مقیم مخیّر افراد سے دہشت گردوں کے لیے رقوم اکٹھی کی تھیں۔

فہرست میں شامل ایک اور قطری کا نام خالد البوئنین کا ہے۔ان صاحب نے شام میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے رقوم اکٹھی کی تھیں۔انھوں نے امریکا اور اقوام متحدہ کی ممنوعہ فہرستوں میں شامل افراد کے ساتھ مل کر القاعدہ کے لیے رقوم اکٹھی کی تھیں۔ان میں سعد الکواری اور عبداللطیف کواری بھی شامل ہیں۔ انھوں نے 2012ء اور 2014ء میں رقوم اکٹھی کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں