.

آسٹریلیا سے لندن کے لیے 17 گھنٹوں کی پہلی براہ راست پرواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلوی فضائی کمپنی Qantas کے طیارے "بوئنگ ڈریم لائنر 787-9 " مسلسل 17 گھنٹے پرواز کرنے کے بعد اتوار کی صبح لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترا تو یہ ہوابازی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی ایک نئی پیش رفت تھی۔

آسٹریلیا کے ساحلی شہر پرتھ سے اڑان بھرنے والی پرواز (QF9) اتوار کی صبح اپنے مقررہ وقت سے چند منٹ قبل پانچ بجے ہیتھرو کے ٹرمینل 3 پر پہنچی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق طیارے نے نو ہزار میل (14500 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کیا اور اس میں 236 مسافر سوار تھے۔ اس سے قبل پرتھ سے لندن آنے والی پرواز کو راستے میں کم از کم ایک مقام پر رکنا ہوتا تھا۔ یہ پرواز سنگاپور یا پھر مشرق وسطی کے کسی شہر میں ٹھہرا کرتی تھی۔ اس قیام کا کم از کم دورانیہ بھی تین گھنٹے ہوتا تھا۔ اس کا مطلب ہوا کہ دونوں شہروں کے درمیان تیز ترین پرواز کا مجموعی دورانیہ 20 گھنٹے ہوتا تھا۔ تاہم اب یہ کم ہو کر 17 گھنٹے تک رہ گیا ہے۔

یہ آسٹریلیا اور یورپ کے درمیان پہلی مسلسل فضائی پرواز ہے جب کہ یہ دنیا بھر میں فاصلے کے لحاظ سے کسی بھی طیارے کی دوسری طویل ترین پرواز تھی۔

کینٹاس فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ایلن جوئس کا کہنا ہے کہ 1974ء میں پہلی مرتبہ لندن کے لیے پرواز شروع کی گئی تو اس کے لیے چار دن درکار ہوتے تھے اور راستے میں 9 مرتبہ رکنا پڑتا تھا۔ جوئس نے کینٹاس کی اس پرواز کو ہوابازی کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس آسٹریلیا نے 6.6 لاکھ سے زیادہ برطانوی شہریوں کا استقبال کیا تھا۔ آسٹریلیا کو سیاحت ، تعلیم ، تجارتی تبادلے اور روزگار وغیرہ کے حوالے سے برطانوی شہریوں کے لیے ایک اہم ترین اور ترجیحی مقام شمار کیا جاتا ہے۔