.

امریکا : ہتھیاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ہفتے کے روز متعدد شہروں میں ہتھیاروں کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مظاہرے "March For Our Lives" کے نام سے جاری عوامی مہم کا حصّہ ہیں۔ اس مہم میں ہتھیار رکھنے سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مہم کی قیادت گذشتہ ماہ فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ کے ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں بچ جانے والے افراد کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے علاقے پینسلوینیا ایونیو میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ اس موقع پر 14 فروری کو فلوریڈا کے اسکول میں ہلاک ہونے والے 17 طلبہ اور اساتذہ کو یاد کیا گیا۔ متاثرہ اسکول کے طلبہ نے ارکانِ کانگریس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ اس رجحان پر روک لگائی جائے۔ عوامی احتجاج کا مقصد اُس قانونی تعطّل کا خاتمہ ہے جو طویل عرصے سے اسلحے کی فروخت پر عائد پابندیوں کو سخت کرنے کی راہ میں حائل ہے، وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں اسکولوں اور یونی ورسٹیوں میں اندھا دھند فائرنگ کے واقعات پھیلتے جا رہے ہیں۔

ٹیلی وژن اسکرینوں پر امریکا کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر احتجاجی ریلیوں میں شریک نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دکھایا گیا۔ ان شہروں میں اٹلانٹا، بالٹیمور، بوسٹن، شکاگو، لوس اینجلس، میامی، مینیاپولس اور نیویارک شامل ہیں۔

منتظمین کے مطابق ملک بھر میں 800 سے زیادہ مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے دیگر شہروں میں بھی اظہارِ یک جہتی کے لیے مظاہرے ہوں گے جن میں لندن اور اسٹاک ہوم شامل ہیں۔

احتجاج کرنے والے افراد چاہتے ہیں کہ کانگریس اس نوعیت کے اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کر دے جو فلوریڈا کے واقعے میں استعمال کیا گیا اور ساتھ ہی اسلحہ خریدنے والے افراد کے پس منظر کے حوالے سے تصدیق کے لیے اقدامات سخت کیے جائیں۔

پارک لینڈ کے علاقے فورٹ لوڈرڈیل میں ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "کیا اگلی باری میری ہے؟" اور "کانگریس = قاتل".

عوامی ریلی میں بعض مشہور گلوکاروں نے بھی شرکت کی۔

ہفتے کے روز وہائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان لینزی والٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ ملک کے ان کثیر دلیر نوجوانوں کو سراہتی ہے جو آج ہفتے کے روز اپنا آزادی اظہار کا حق استعمال کر رہے ہیں۔