.

امریکا اور یورپی ممالک کا روسی سفارتکاروں کو نکل جانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ میں روس کے سابق جاسوس کو زہر دیے جانے کے واقعے کے بعد امریکا میں تعینات 60 روسی سفارتکاروں کو نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ امریکا کے علاوہ جرمنی اور فرانس نے بھی پیر کو چار روسی سفارکاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

یورپی یونین کے رہنما گذشتہ ہفتے اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ برطانیہ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دینےمیں روس ملوث ہے۔ تاہم روس اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا نے روس کے سیئیٹل میں قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل روس اور برطانیہ بھی ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک بدر کر چکے ہیں۔

برطانیہ نے سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام روس پر لگاتے ہوئے اس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد روس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 23 برطانوی سفارت کاروں کو بھی ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چار مارچ کو روس نے سیلیسبری میں انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو مارنے کی کوشش کی۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے اتحادی برطانیہ پر حملے سے کئی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا اور نتیجتاً ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد بری طرح زخمی ہوئے۔‘ انھوں نے اس حملے کو ’کیمیکل ویپنز کنوینشن اور بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔