.

ایران یمنی حوثیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ بند کردے : برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے ایران پر زوردیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی ملیشیا کو ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ بند کر دے اور اس کے بجائے تنازع کے حل کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔

برطا نیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن اور وزیر برائے بین الاقوامی ترقی پینی مورڈانٹ نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائے ۔انھوں نے یہ بیان حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی جانب سات میزائل حملوں کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔حوثیوں نے ایک میزائل سعودی دارالحکومت الریاض کی جانب بھی داغا تھا۔ ایسی مصدقہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ ایران ہی نے حوثی ملیشیا کو سعودی عرب کی جانب چلانے کے لیے میزائل مہیا کیے ہیں۔

انھوں نے بیان میں کہا:’’اگر ایران حقیقی طور پر یمن میں سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے ، جیسا کہ وہ اپنے بیانات میں اس کا اظہار کرتا ہے تو پھر اس کو یمن میں ہتھیار بھیجنے کا سلسلہ بند کردینا چاہیے،اس کے اس عمل سے یمن میں جاری تنازع طول پکڑے گا ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور اس سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں گے‘‘۔

’’ ہم یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ ایران ایک ایسے ملک پر کیوں رقم خرچ کررہا ہے جس کے ساتھ اس کے کوئی تاریخی تعلقات استوار ہیں اور نہ کوئی مفادات ہیں۔اس کو حوثیوں کو رقوم مہیا کرنے کے بجائے تنازع کے خاتمے اور یمنی عوام کی بھلائی کے لیے کام کرنا چاہیے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا۔

دونوں برطانوی وزراء نے یہ بیان سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن بحران میں مداخلت کے تین سال پورے ہونے کے موقع پر جاری کیا ہے۔ حوثی باغیوں نے ستمبر 2014ء میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کی مدد سے قبضہ کر لیا تھا اور یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے تحت فوج وہاں سے جنوبی شہر عدن کی جانب پسپا ہوگئی تھیں۔

صدر منصور ہادی کی دعوت پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے 26 مارچ 2015ء کو یمن میں فوجی مداخلت کی تھی اور ان کی مدد سے یمنی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔