.

سعودی عرب: اعضاء سے محروم یہ دونوں بہن بھائی کیسے جی رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے قصیم میں کے گاؤں "عمائر عقاب" کا 24 سالہ رہائشی عبدالرحمن اور اس کی بہن مستورہ موروثی بیماری کے باعث ہاتھوں اور پاؤں کے بغیر پیدا ہوئے۔ تاہم دونوں بہن بھائی اپنی زندگی میں امید کی شمع جلا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں کی ایک ماموں زاد بہن ہدیہ بھی پیدائشی طور پر اسی نوعیت کی معذوری کا شکار ہے۔

عبدالرحمن اپنی معذوری کے باعث تعلیم کے حصول سے محروم رہ گیا کیوں کہ اس کے علاقے میں ایسا تعلیمی ادارہ نہیں تھا جو اس کو اس حالت میں تعلیمی سہولیات فراہم کرتا۔ البتہ اس کی بہن مستورہ نے اپنے تعلیمی مراحل مکمل کیے اور اب وہ اپنی والدہ کی مدد سے بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں یونی ورسٹی کی فاصلاتی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

عبدالرحمن کے ایک پڑوسی سالم الوہیبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "عبدالرحمن کا باپ کئی برس پہلے فوت ہو چکا ہے۔ عبدالرحمن اور اس کی بہن کی سرپرستی اس کے چچا نے کی۔ عبدالرحمن اپنی پیدائشی معذوری کے باوجود پر امید ہے۔ وہ اپنی والدہ کی مدد کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ مہمانوں کو خیر مقدم کرتا ہے اور کھانا کھانے میں خود پر انحصار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ذہین بھی ہے اور میچوں اور کھیلوں کے پروگراموں کو پسند کرتا ہے۔ عبدالرحمن کو یقین ہے کہ اس کی اس معذوری میں اللہ تعالی کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے"۔

الوہیبی کے مطابق محنت اور سماجی بہبود کی سعودی وزارت نے عبدالرحمن اور اس کی بہن مستورہ کی سپورٹ کی ہے۔ تاہم ان کی ماں اپنے دونوں بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی قدرت نہیں رکھتی کیوں کہ ان دونوں کو طبی معاونت کی ضرورت ہے تا کہ وہ دونوں کو کھلانے پلانے میں کامیاب ہو سکے اور زندگی کے دیگر معمولات انجام دینے میں ان کی مدد کر سکے۔ دونوں بہن بھائی کو جدید ٹکنالوجی کے حامل آلات اور سازوسامان کی ضرورت ہے تا کہ ان کے لیے زندگی گزارنا آسان ہو جائے۔

عبدالرحمن کی ماں کا کہنا ہے کہ "دونوں بہن بھائی اسی حالت میں پیدا ہوئے جس پر میں بہت رنجیدہ ہوئی۔ مگر پھر میں نے اللہ پر یقین مضبوط کیا اور سوچ لیا کہ اللہ نے مجھے ان کی سرپرستی کا اعزاز بخشا ہے لہذا میں اللہ سے اجر کی طالب ہوں اور اپنے بچوں کی خدمت انجام دیتی ہوں۔ میں نے عبدالرحمن کے والد کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی جس سے میرے دو نارمل بیٹے پیدا ہوئے اور یہ دونوں اب عبدالرحمن اور مستورہ کی دیکھ بھال میں میری مدد کرتے ہیں"۔

عبدالرحمن کی ماں کے مطابق اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی جسمانی حالت کے لحاظ سے اس کے لیے ڈیزائن کردہ خصوصی گاڑی حاصل کر لے اور عبدالرحمن اپنی خواہش کے مطابق الاتحاد فٹبال کلب کا میچ اسٹیڈیم جا کر دیکھ سکے۔