.

سعودی عرب میں حوثیوں کے میزائل حملے میں جاں بحق مصری شہری کون تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے حوثی ملیشیا کے اتوار کی شب سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب میزائل حملوں میں ایک مصر ی شہری جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے دارالحکومت الریاض کی جانب بھی میزائل داغا تھا لیکن سعودی دفاعی فورسز نے ان تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا تھا اور ان کے ٹکڑے مختلف عمارتوں پر یا جگہوں میں گرے تھے۔

العربیہ نیوز چینل کو سعودی عرب میں مقیم مصری کمیونٹی کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق الریاض میں ایک میزائل کے ٹکڑے لگنے سے جاں بحق ہونے والے مصری کا پورا نام عبدالمطلب احمد حسین علی تھا ۔ان کا تعلق بالائی مصر سے تھا اور وہ سعودی عرب میں ایک کنٹریکٹر کے طور پر کام کررہے تھے۔

مقتول اور اس کے دو ساتھی اس رہائشی عمارت کی آخری منزل میں ایک کمرے میں مقیم تھے جس پر تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے آ کر گرے تھے۔فضا میں تباہ شدہ دو میزائلوں کے ٹکڑے الریاض میں دوسرے آباد علاقوں میں گرے تھے لیکن ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مصری کمیونٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ عبدالمطلب احمد اس وقت اپنے بھائی اور ساتھی کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہا تھا۔میزائل کے ٹکڑے لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا اور باقی دونوں مصری زخمی ہوگئے تھے۔انھیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

الریاض میں مصری سفارت خانے کو اس واقعے کی فوری اطلاع دے دی گئی تھی تاکہ مقتول کی میت کی جلد مصر واپسی کے انتظامات کیے جا سکیں ۔مصر کی وزارتِ خارجہ نےمتاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے یمن سے الریاض کی جانب تین میزائل داغے تھے اور چار میزائل جنوبی شہروں خمیس مشیط ، جازان اور نجران کی جانب فائر کیے گئے تھے۔ عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ ان تمام میزائلوں سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ایران کے حمایت یا فتہ حوثی گروپ کی اس جارحانہ کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی رجیم نے اس مسلح گروپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔سعودی شہروں کی جانب بیلسٹک میزائلوں سے یہ حملہ ایک سنگین پیش رفت ہے‘‘۔