یمنی حوثی ایران کے مہیا کردہ میزائل سعودی عرب کی جانب داغ رہے ہیں: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ریاض المالکی نے الریاض میں ایک نیوز کانفرنس میں حوثی ملیشیا کے مختلف شہروں کی جانب چلائے گئے بیلسٹک میزائلوں کے حملے سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ ایران سے بیلسٹک میزائل اسمگل کرکے یمن لائے جارہے ہیں اور پھر وہاں سے انھیں سعودی عرب کے شہروں کی جانب داغا جارہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عرب اتحادی فورسز نے یمن میں حوثیوں کو بھیجے گئے دسیوں ایرانی ساختہ بیلسٹک اور دوسرے میزائل پکڑے ہیں اور اتوار کی شب الریاض کی جانب داغا گیا میزائل ایرانی ساختہ قیام تھا۔انھوں نے سعودی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی میں تباہ ہونے والے ان میزائلوں کا ملبہ بھی دکھا یا ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے یمن سے الریاض کی جانب تین میزائل داغے تھے اور چار میزائل جنوبی شہروں خمیس مشیط ، جازان اور نجران کی جانب فائر کیے تھے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تمام میزائلوں سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ ’’ ایران کے حمایت یا فتہ حوثی گروپ کی اس جارحانہ کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی رجیم نے اس مسلح گروپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے‘‘۔انھوں نے سعودی شہروں کی جانب بیلسٹک میزائلوں سے اس حملے کو ایک سنگین پیش رفت قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں