.

آسٹریلیا کا روسی سفارت کاروں کو نکالنے کا فیصلہ ، فٹبال عالمی کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا نے بھی امریکا اور برطانیہ کے دیگر حلیفوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک سے دو روسی سفارت کاروں کو نکال دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام برطانوی سرزمین پر روس کے ایک سابق جاسوس کوNerve Agent گیس سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ردّ عمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف اقدامات میں دیگر آپشنز بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں فٹبال کے عالم کپ کا بائیکاٹ بھی ہے۔

منگل کے روز آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ روسی سفارت کاروں کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے 7 روز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مذکورہ حملے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں پہلی مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ گنجان آباد علاقے میں انتہائی مہلک مواد کو کام میں لایا گیا جو کہ معاشرے کے دیگر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کے لیے خطرہ ہے"۔

ٹرنبل کے مطابق لندن کی جانب سے یہ معلومات سامنے آئیں کہ چار مارچ کو سیلزبری برطانیہ میں سرگئی اسکریپال اور اس کی بیٹی کے خلاف حملے میں استعمال کیا جانے والا مواد عسکری نوعیت کا Nerve Agent تھا جس کو روس نے تیار کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "ہم روس سے کیے جانے والے اس مطالبے کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ ماسکو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ظاہر کرے"۔

ماسکو اس امر کی تردید کر چکا ہے کہ اس کا اسکریپال اور اس کی بیٹی پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے کوئی تعلق نہیں جس نے دونوں کو تشویش ناک حالت میں پہنچا دیا۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیر خارجہ جُولی بشپ کا کہنا ہے کہ روسی جاسوس کو زہر دیے جانے کے جواب میں دیگر اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں جن میں آسٹریلیا کی جانب سے روس میں ہونے والے فٹبال عالمی کپ کا بائیکاٹ شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات کینبیرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

آسٹریلیا پہلے ہی ملائیشیا کے ایک مسافر طیارے کو مار گرانے اور 2014ء میں یوکرین کے حصوں کو اپنی ریاست میں ضم کر لینے پر ماسکو پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

مذکورہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہا تھا۔ اس واقعے میں طیارے میں سوار 298 افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 28 آسٹریلوی شہری بھی تھے۔